ایسابھی ہوتا ہے

سروس سینٹر یا تھانہ، فیصلہ آپ کا

|
دسمبر 21, 2015

ایسا بھی ہوتا ہےلوگ مجھ سے ہمیشہ پوچھا کرتے ہیں کہ میں نے اپنا موبائل نمبر تبدیل کیوں کیا۔۔۔ کبھی میں کوئی بہانہ بتاتا ہوں تو کبھی کوئی ۔۔۔ لیکن اس شوق کی اصل وجہ وہ 'شوک' ہے جس کی وجہ ے مجھے 'تم ہی تو ہو ' سے نجات حاصل کرنا پڑی۔ ہوا کچھ ہوں کہ جس کمپنی میں میں کام کرتا تھا، اس نے وہاں کا آفیشل نمبر میرے نام کیا لیکن این او سی دینے کی زحمت نہ کی، جب میں نے کچھ ماہ بعد جا کر این او سی کی کاپی نکلوائی تو اندازہ ہوا کہ میرے اوپر کچھ رقم بھی واجب الادا ہے ۔۔ سروس سینٹر جاکر پہلے تو اپنا این او سی دکھایا جس پر ایک محترمہ نے طنزیہ کہا کہ این او سی نقلی لگتا ہے ۔۔۔ اصلی آئی ڈی کارڈ ہو تو بتائیں، آئی ڈی کارڈ دکھا کر میں نے ایک سچے پاکستانی کی طرح اپنے اوپر لگے7000 روپے بھی جمع کرادئیے۔ تین سے چار دن کا وقت دیا انہوں نے جو کہ قابل قبول تھا۔لیکن جب تین دن بعد میں انکے دفتر گیا تو لگا جیسے کسی اور دنیا میں آگیا ہوں، پتہ چلا کہ چونکہ این او سی اوریجنل نہیں تھا اس لئے نمبر کی منتقلی کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا، ایسا تھا تو بھائی میرے حق حلال کی کمائی کیوں لی مجھ سے ۔۔۔ اس کے بعد ایک سچے پاکستانی ہی کی طرح میں نے بہن کی دوست سے سفارش لگوائی جو کسی اور سروس سینٹر میں کام کرتی تھیں، انہوں نے مجھے دو دن بعد اپنی ایک جاننے والی سے ملنے کو کہا جو وہی خاتون تھیں جنہوں نے پہلے دن میرا استقبال 'آئی ڈی کارڈ لائے ہو' سے کیا تھا۔ انہوں نے اپنے ایک ساتھی سے میرا معاملہ حل کرنے کو کہا، یہ وہی حضرت تھے جو مجھ سے 7000 روپے لے چکے تھے اور جنہوں نے اس دن این او سی کی کاپی ہونے پر کچھ نہیں کہا تھا۔لیکن شاید ان کا چشمہ دوسرا تھا یا میری قسمت خراب جو انہوں نے این او سی کی اصلیت جان لی اور مجھ سے اصلی این او سی لانے کو کہا۔ میرے متعدد کہنے کے بعد کہ میں اب وہاں کام نہیں کرتا اور کسی کو نہیں جانتا، ان کی صحت پر کوئی فرق نہ پڑا ۔۔۔ آخر کار میں نے ان سے کہا کہ پہلے آپ اس سے پہلے جہاں نوکری کرتے تھے وہاں کی سیلری سلپ لاکر دیں ، اس پر انکی شکل پر 12 بج گئے لیکن وہی اصلی این او سی کی رٹ۔۔۔ بالآخر میں نے ان سے کہا کہ میری سم کسی ضرورت مند کو دے دیں کیونکہ اب مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں، نہ تو میرے کمرے میں مکمل سگنل آتے تھے نہ ہی کمرے کے باہر، کسی سے بات کرنا ہوتی تھی تو یا تو وائی فائی کام آتا تھا یا پھر تھری جی ۔۔۔ اس لئے نہ تو مجھے سات ہزار روپے کے نقصان کو کوئی غم ہوا نہ ہی نمبر کے چلے جانے کا ۔۔۔ لیکن ایک تجسس ہے، پتہ نہیں اس بے چارے پر کیا گزر رہی ہوگی جو اب میری جگہ تم ہی تو ہو کے نرغے میں ہے۔ تم ہی تو ہو جو جلائے دل میرا تم ہی تو ہو میں ہوں اب جس سے خفاء تم ہی تو ہو تیری سمِ سے زندگی ہے ڈم میری نیٹ ورک کا مسئلہ تم ہی تو ہو چوستے ہو خون میرا رات دن ٹیکسس کی انتہا تم ہی تو ہو کسٹمر کو لوٹتے ہو بے سبب ٹیلیفونک مافیا تم ہی تو ہو کسٹمر کے واسطے سروس نہیں کال کی میوزک چلا تم ہی تو ہو ایڈ میں کیا ہے حقیقت میں ہے کیا خود ہی کر لو فیصلہ تم ہی تو ہو خرچ جس پے ہوتی ہے ساری پگار میری بیگم کے سوا تم ہی تو ہو فیصل و آیان جھوٹے ہیں سبھی ہے غلط کے جا بجا تم ہی تو ہو شاعر: سید حیدر عباس

سروس روڈ

|
دسمبر 20, 2015

کیا آپ کو معلوم ہے کہ’’ سروس روڈ‘‘ کس لئے ہوتے ہیں ؟ ۔۔۔ نہیں؟؟کچھ لوگوں کو معلوم ہے کہ سروس روڈ کس لئے ہوتا ہے؟ ۔۔۔ جی نہیں! سروس روڈ پارکنگ کے لئے ہوتا ہے، نہ پان کے کیبن لگانے کے لئے اور نہ ٹھیلے لگانے کے لئے۔یقیناًسن کر حیرت ہوئی ہوگی۔ ارے بھئی معلوم بھی کیسے ہوتاآج تک سروس روڈ اصل مقصد کے لئے استعمال ہی کہاں ہوئے ہیں ۔ جبکہ سروس روڈکا کام یہ ہے کہ وہ مین روڈ سے آنے والی گاڑیوں کو رہائشی علاقوں میں جانے کا راستہ فراہم کرتے ہیں یا اگر کسی رکاوٹ کی وجہ سے مین روڈ بند ہو تو متبادل راستے کے طور پر سروس روڈ سے ٹریفک گزر جائے تاکہ مین روڈ پر بھیڑ کم ہو سکے ۔ مگر ہمیں تو بس اتنا ہی معلوم ہے کہ بھئی پارکنگ کے لئے جگہ نہیں ؟؟ٹھیلہ لگانا ہے؟ ، پان کا کیبن کھولنا ہے؟ ان سب مسئلوں کے حل کے لئےسروس روڈ ہے نا!!!اور کراچی میں جتنی کثرت سے پرسنل ٹرانسپورٹ یعنی موٹر سائیکلوں اور کاروں میں اضافہ ہورہا ہے اس حساب سے وہ دن دور نہیں کہ سڑکوں پر گاڑی چلانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوگا کیونکہ صرف پارکنگ ہی ہوا کرے گی۔۔ سروس روڈز کی حالت اتنی بد ترین ہے کہ گاڑی چلانے والے کو لگتا ہے جیسے زلزلہ آگیا ہو تو پھر لوگ ٹریفک جام میں بھی سروس روڈ کے بجائے مین روڈ سے ہی جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔اور اگر ٹریفک کی حالت ٹھیک بھی ہو تو سونے پہ سہاگہ یہ ہوتا ہے کہ یا توکسی کا کنسٹرکشن کا سامان پڑا ہوتا ہے یا پھر شادی کے ٹینٹ لگے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے آدھے سے زیادہ روڈبلاک ہوتا ہے ۔کیوں کہ یہی ہے کراچی میں سروس روڈ کا کام!

ریحام خان

|
دسمبر 19, 2015

کسی عورت کو طلاق ہوجائے تو عدت لازمی ہوتی ہے۔ مگر اب ھیلووین پر جاتے ہیں ۔جی ہاں!! قوم کی سابقہ بھابھی ریحام خان کی بات کر رہا ہوں ۔عمران خان سے شادی تو اسلیے کی تاکہ سیاست میں آسکیں۔ مگر افسوس دل کے ارماں آنسوئوں میں بہہ گئے ۔اپنے آپ کو صحافیہ منوانے والی سابقہ بھابھی جی کی تو ڈگری بھی جالی نکلی تھی۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے کہ جہاں کالج سے ذلیل کرکے نکالے ہوئے کو صدر ، چار آدمیوں کے برابر کھانا ٹھونسنے اور اسپیشل کرسی پر بیٹھنے والے کو وزیراعظم اور بی بی سی پر چھوٹے کپڑے پہننے والی ویدر گرل کو جرنلسٹ یاصحافی بنا دیتے ہیں۔ ایسی پوسٹ کی عورت جس کو کوئی سنتا نہیں ،صرف دیکھتے ہیں۔ ایک بات تو سمجھ نہیں آتی کہ آخر بھابھی جی کرنا کیا چاہتی تھیں۔ آپ کی خواہش سیاست میں آنے کی تو پوری ہوئی نہیں تو پروڈکشن کے کام میں لگ گئی۔ نئی آنے والی فلم “جاناں” سے آپ نے اپنے فلمی کیریئر کا بھی آغاز کردیا۔ کسی نے کیا خوب بات کہی ہے کہ جسے کچھ نہیں آتا ہے وہ ہر کام میں کود پڑتا ہے۔ کبھی کبھی تو ریحام پر افسوس آتا ہے ۔ ان سے اچھا تو وہ گدھا ہے جو کچھ کرے نہ کرے، سامان تو لاد لیتا ہے۔ ایک دفعہ تو انٹرویو لینے کی ٹھان لی ۔نجی چینل پر بھابھی جی نے انٹرویو لینا شروع کیے اور پہلا انٹرویو ہی اپنےدوسرے سابقہ میاں عمران خان کا لے ڈالا۔ شادی کے بعد توانھوں نے گیٹ اپ بھی ایسا کرلیا ہے کہ دیکھتے ہی نقل کی بو آتی ہے۔ خیر عمران خان کی گھریلو زندگی ہی پوچھنے بیٹھ گئی۔ خان صاحب نے آن کیمرہ تو عجیب سا منہ بنا کر جواب دے دیا ۔مگر آف کیمرہ نہ جانے کیا کہا ہو۔سیاست ملی نہیں ، چینل پر چل نہ سکیں اور بس کتوں کو پالنا پڑا۔ہائے یہ مجبوری ، طلاق ضروری ہوگئی ۔ بیچاری رضیہ خواہ مخواہ غنڈوں میں پھنس گئی تھی ۔ اب ریحام دوبارہ نجی چینل “نیو” کا حصہ بن گئی ہیں۔ ویسے شکر منائیں خان صاحب کہ آپ اب بھی بنی گالامیں رہ سکتے ہیں۔ ورنہ ان کے پہلے سابقہ شوہر اعجاز رحمن کہتے ہیں کہ انھیں اپنے ہی گھر سے سوٹ کیس کے ساتھ باہر نکال دیا گیا!!!

1 12 13 14
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial