خودی کو کر بلند کتنا؟

|
دسمبر 21, 2016


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
خودی کو کر بلند اتنا جتنا پاکستان میں فلموں کی تعداد اور خصوصاً اچھی فلموں کی تعداد اجازت دے۔ اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنا ہی بیوقوفی کہلاتا ہے، اور اسکی مثال پاکستانی سنیما گھروں نے اڑی حملوں کے بعد حب الوطنی کے جوش میں آ کر بھارتی فلموں پر پابندی لگاکر دی۔ مگرپھر جلد ہی عقل آگئی کہ بھارتی فلموں کے بغیر پاکستانی سنیما کا چلنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ پاکستانی عوام سنیما سے دور ہوگئی اور اس درمیان پاکستانی تاریخ میں آئی "دوبارہ پھر سے" اور "لاہور سے آگے" جیسی بہترین فلمیں بھی کچھ خاص کمال نہ کر پائیں۔ رہی سہی کسر جیون ہاتھی، 8969 اور رحم جیسی فلموں نے پوری کردی۔ اس برس تقریباً پچیس فلمیں آئیں جو کہ پورے سال سنیما نہیں چلا سکتی ، اور جن میں سے چند ہی دیکھنے لائق تھیں۔
پاکستانی سنیما گھروں نے پیر کے روز سے بھارتی فلموں کو دوبارہ لگانے کا اعلان کیا ہے۔ اس پابندی کو ہمارے میڈیا نے سنیماگھروں کی "خود ساختہ پابندی " قرار دیا ۔ واقعی یہ سمجھ نہیں آیا کہ پابندی کس کی طرف سے لگائی گئی تھی مگر اس پابندی کے لگنے کے بعد کسی بھی حکومتی ادارے نے اس سے لاتعلقی کا اظہار نہیں کیا ۔ ویسے تو ذرا سی بات بھی ہوجائے تو بیان جاری ہوجاتا ہے، اگر یہ سنیما گھروں کی طرف سے خود ساختہ پابندی تھی تو متعلقہ حکومتی ادارے کی طرف سے کوئی بیان کیوں نہیں آیا؟
پاکستانی عوام بھی اس معاملے میں کچھ کم نہیں رہی۔ بھارتی فلموں پر پابندی کا ساتھ تو ایسے دیا جیسے خود تو ہمیشہ پاکستانی فلمیں ہی دیکھنے جاتے ہیں ۔2005 میں جب چالیس سال بعد بھارتی فلموں سے پابندی ہٹی تھی تب یہ عوام جوق در جوق سنیما گئی تھی، اس سال بھی پاکستان کی شاید ہی کوئی فلم اتنے مہینے سنیما کی زینت بنی ہو جتنی "سلطان" بنی. عوام کو مزید بھڑکانے میں وہ نام نہاد پاکستانی اداکار سامنے آئے جن کی کوئی اداکاری پسند کرتا ہے نہ ہدایت کاری۔ بس سب نے اس بہتی گنگا میں اپنا ہاتھ دھونا فرض سمجھا اور اس سیاسی مسئلے کو فلمی مسئلہ بنانے میں پورا کردار ادا کیا۔
بھارتی ہدایت کاروں کی جانب سے پاکستانی اداکاروں کو فلموں میں کام کرنے کے لئے بلایا گیا مگر انتہا پسند اڑی حملے کے معاملے کو سنیما کا مسئلہ بنا کر ہمارے اداکاروں کو نشانہ بناتے رہے۔ حالانکہ پاکستان میں بھارتی فلموں سے پابندی ہٹنے پر ان کے اپنے اداکار بہت خوش ہیں۔ پاک بھارت اداکار و فنکار خود چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک میں فن کا تبادلہ ہو مگر کچھ انتہا پسنداور بند ذہنیت کے لوگ ہی دونوں طرف لگی آگ کو ہوا دیتے ہیں۔
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial