چلو چلو سنیما چلو

|
فروری 2, 2017


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
ابھی تک صرف سنا اور پڑھا ہی تھا کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے مگر کل جب نیوپلیکس سنیما میں فلم قابل کی ایڈوانس بکنگ شروع ہوئی تو دیکھ بھی لیا۔ نیوپلیکس سنیما نے بدھ کو ریتک روشن کی فلم قابل کی ایڈوانس بکنگ کرنا شروع کی تو انھیں ایک کے بعد ایک کالیں آنا شروع ہوگئیں۔چار مہینے سے خالی پڑے سنیما کو عوام نے توجہ دے ہی دی۔ اس پاک بھارت سنیما جنگ میں پاکستانی عوام نے سنیما کا رخ کرنا بند کردیا تھا۔
ایسا پہلی بار نہیں ہوا ، اس سے پہلے جب 2005 میں پاکستانی سنیما گھروں میں بھارتی فلموں کو نمائش کی اجازت ملی تھی تب بھی عوام نے ایسا ہی کیا تھا۔ چالیس سال کی پابندی کے بعد پاکستان میں دلیپ کمار اور مدھو بالا کی فلم مغلِ اعظم (رنگین) ریلیز کی گئی تھی تو عوام جوق در جوق سنیما کی طرف گئی تھی۔
چار مہینے میں پاکستان نے اپنی عوام کا سنیما کی طرف رجحان تقریباً ختم ہی کردیا تھا۔ بھارتی فلموں پر پابندی کے بعد سنیما سنسان ہوگئے۔ پاکستانی فلمیں جنھیں "ہاؤس فل" جانا تھا ، وہ بھی کچھ خاص کامیاب نہ ہو سکیں۔ باقی جو فلمیں آئیں ان کا آنا ، نہ آنا برابر ہی تھا۔ لوگ اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں مگر ہم آج بھی اپنی غلطیا ں دہرارہے ہیں۔ اس تہذیبی غلط فہمی کے خاتمے کی ضرورت ہے جو ہمیں اس قدر چھوٹی سوچ رکھنے پر مجبور کرتی ہے کہ مسئلہ پاک بھارت کے درمیان سیاسی ہو تب بھی پابندی سنیما پر لگنی چاہیئے۔ رئیس اور قابل ویسے تو اب پاکستان میں ریلیز ہو رہی ہیں جبکہ یہ فلمیں ریلیز ہوئے ایک ہفتہ ہوگیا ہے۔ اور پاکستان کی کافی عوام اسے دیکھ بھی چکی ہے، کیا فائدہ اس پابندی کا؟ بہتر ہے کہ اس طرح کے نقصان دہ فیصلے نہ لیے جائیں، ورنہ پاکستانی فلم انڈسٹری پھر پیچھے رہ جائےگی۔
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial