یاسر کو معاف کردیا جائے

|
مئی 3, 2017


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
ایوارڈ میں تو میزبان خوب ہنسی مذاق کر کے اور چھوٹے چھوٹے مزیدار جملے بول کر لوگوں کو محفل سے جوڑے رکھتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ "ہم ایوارڈ" میں چل رہا تھا، کہ اچانک ہی یاسر حسین نے میزبانی کرتے ہوئے ایک جملہ ایسا کہہ دیا جو سب کو برا لگ گیا۔ احسن خان کو "اڈاری" کے لیے ایوارڈ دیا گیا تو یاسر حسین نے مذاق میں کہا کہ
اتنا خوبصورت چائلڈ مولیسٹر ، کاش میں بھی بچہ ہوتا۔
یقیناً یہ جملہ یاسر حسین نے مذاق میں کہا تھا ، کوئی بھی شخص حقیقت میں تو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے کی تعریف نہیں کرے گا، اگر وہ پاگل نہ ہو تو۔
اس پر بات کا ایسا بتنگڑ بنا کہ سب یاسر حسین پر موقع دیکھ کر برس پڑے۔ حالانکہ کوئی لائیو شو بھی نہیں تھا ، اس لائن کو ایڈِٹ کیا جا سکتا تھا ۔ لیکن اب تو اس طرح سے بات کو اچھالا گیا ہے کہ جنگل کی آگ کی طرح سب کو پتا لگ گئی ہوگی۔ جب یاسر حسین کو احساس ہوا کہ انھوں نے کچھ غلط کہہ دیا ہے تو سوشل میڈیا کے ذریعے معافی بھی مانگی اور یہ بھی واضح کیا کہ وہ جملہ ان کی سکرپٹ کا حصہ نہیں تھا۔

#yasirhussain #humawards

A post shared by yasir hussain (@yasir.hussain131) on

جبران ناصر تو اس پر ایسے غصے میں آئے کہ لمبی چوڑی فیس بک پوسٹ لگا دی۔
منیبہ مزاری نے انسٹا گرام پر یاسر حسین کی بات کی مذمت کی

Speechless!!!

A post shared by Muniba Mazari-Official (@munibamazari.official) on

حدیقہ کیانی نے "امی جان" کا کردار ادا کیا
گولمال بچوں اور خواتین کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کی سخت مخالفت کرتا ہے اور ایسے واقعات کی پُر زور مذمت بھی کرتا ہے مگر یہ بات بھی سچ ہے کہ انسان خطا کا پتلا ہے، اس نے اگر معافی مانگ لی ہے تو اسے معاف کردینا چاہیئے۔ ہمارا مذہب بھی یہی سیکھاتا ہے۔
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial