…بات تو سچ ہے مگر

|
اکتوبر 10, 2017


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
پاکستان کی ٹی وی اور فلم کی معروف ہدایت کار ہ، مہرین جبار نے پاکستانی میڈیا انڈسٹری میں اچھی کہانی کی کمی کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ایک ویب سائٹ کے مطابق "دوبارہ پھر سے" کی ڈائریکٹر کاکہنا تھا کہ 'پہچان' سے لیکر 'جیکسن ہائیٹ' تک جو سیریل امریکا میں کیے ان میں مختلف موضوعات اور مسائل پیش کیے گئے۔ ان کےخیال میں چینلز کو نئے خیالات ، کہانیوں اور لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیئے ۔ صرف پرانی کہانی کو ہی نئے طریقے سے پیش نہیں کرنا چاہیئے۔
پہلے پاکستانی ڈرامے اپنے اندر معاشرتی پہلو اجاگر کرنے کی صلاحیت اورمضبوط کہانی رکھتے تھے مگر بعد میں چند ہی مضوعات باقی رہ گئے جس میں سب سے نمایاں محبت اور شادی کے مسائل ہیں۔ جب معاشرتی مسائل پر ڈرامے جیسے اڈاری ، خدا میرا بھی ہے وغیرہ بنائے گئے تو عوام نے بہت پسند کیا۔ مگر ڈرامہ اندسٹری نے 'کتنےگرہیں باقی ہیں –چیونگم 'بنا کر ثابت کردیا کہ زیادہ سوچنا بھی انڈسٹری کی صحت کے لیےمضرہے۔
پاکستانی فلمیں بھی کہانی کے معاملے میں ڈراموں سے پیچھے نہیں ۔ اچھی سے اچھی فلم بھی کہانی میں نئی پیکنگ میں پرا نا مال ہونے کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔ مہرین جبار کی ہی فلم "دوبارہ پھر سے" ہدایت کاری میں پاکستانی شاہکار سے کم نہیں لیکن کہانی میں وہی گھسی پٹی لو اسٹوری جس کی شروعات سے ہی اختتام تک کی کہانی بتائی جا سکتی ہے۔ ایسی فلمیں بھی آئی جن کے ٹریلر سے لگا کہ شاہکار آنے والا ہے مگر پھر یاد آیاکہ پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست۔۔۔
پاکستانی ٹی وی اور فلم انڈسٹری کو اگر کچھ کرنا ہے تو آئیٹم نمبر ، گلیمر ، محبت اور جوکس سے زیادہ مضبوط اور نئی کہانی کی طرف توجہ دیں۔ ورنہ ڈرامہ اندسٹری تو جیسے تیسے گھریلو خواتین کی وجہ سے کیبل کے خرچے پر چل رہی ہے مگر فلم انڈسٹری کا کیا ہوگا!!!
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial