ظالما نئے کپڑے دلا دے

|
اگست 11, 2016


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
یہ تو وہی سوٹ ہے نا جو تم اس دن پہن کر آئے تھے؟ اسی جملے کا خوف ہوتا ہے کہ ہر عام سے عام شخص بھی ہر تقریب میں کچھ الگ پہن کر جاتا ہے۔ اگر دو جگہ ایک ہی سوٹ پہن کر چلا گیا تو لوگ کیا سوچیں گے؟ ہر شخص کو شوق بھی ہوتا ہے کہ وہ ہر جگہ کچھ نیا پہن کر جائے اور مختلف دکھے کہ لوگ تعریف کریں۔ یہ تو ہیں عام لوگوں کے نخرے! لیکن جب کسی اداکار اور گلوکار کی بات آتی ہے تو وہ خیال رکھتے ہیں کہ ہر موقع پر ایک نیا لُک ہو کہ دنیا تعریف کیئے بغیر نہ رہ سکے۔ ایک پاکستانی اداکار اتنے "افضل" ہیں کہ تمام اداکاروں سے ہٹ کر دکان لگاتے ہیں۔ فیس بک سے ہر وقت چپکے رہنا اور ہر مسئلے میں ٹانگ اڑانا یہ اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ انکی افضلیت کا یہ عالم ہے کہ کپڑوں کا رنگ تو انکا کبھی تبدیل ہی نہیں ہوا جہاں بھی جائیں بس کالے کپڑوں میں اٹھ کر آجا تے ہیں۔ بس ذرا تبدیلی یہ آجاتی ہے کہ کبھی کالا شلوار قمیص ہوتا ہے تو کبھی اس کالے شلوار قمیص پر کالا کوٹ پہن لیا جاتا ہے۔ کبھی کالا پینٹ شرٹ پہنے ہوتے ہیں تو کبھی اسی پر کالا کوٹ پہن آتے ہیں۔ لکس اسٹائل ایوارڈز، اے آر وائے ایوارڈز اور ہم ایوارڈز ہر جگہ یہ یا تو کالے شلوار قمیص میں دکھے یا کالے پینٹ شرٹ میں۔ بالی وڈ ایوارڈز میں بالی وڈ اداکار ایک پرفارمنس میں دو سے تین مرتبہ کپڑے تبدیل کرتے ہیں جس پر لوگ خوب واہ واہ بھی کرتے ہیں جبکہ ہمارے "افضل" نے 2 سے 3 ایوارڈ کی تقریبوں میں ایک ہی یونیفارم پہنا ہے۔باقی پاکستانی اداکار فواد افضل خان، فیصل قریشی، علی ظفر ہر تقریب میں ایک نئے انداز میں دکھتے ہیں لیکن یہ تو "افضل" ٹھہرے ہر جگہ بس کالے شلوار قمیص میں اٹھ کر آجاتے ہیں۔ شاید اے آر وائے ایوارڈز 2016 میں اسی لئے انہیں "بیسٹ ڈریسڈ میل" کا ایوارڈ دے دیا کہ شاید اب اگلی بار یہ بندہ کچھ اور پہن کر آجائے۔ کچھ لوگ کہیں گے کہ بھائی آپ کسی کی ڈریسنگ کے معاملے میں کیوں ٹانگ اڑا رہے ہیں تو میں یہی کہوں کہ بھئی جب افضل ہر چیز میں ٹانگ اڑاتے ہیں تو اتنا ٹانگ اڑانا تو ہمارا بھی بنتا ہے۔
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial