No Image
Facebooktwittergoogle_pluslinkedin

چاکلیٹ کھائے گا چاکلیٹ؟

|
اکتوبر 3, 2016


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
اگر آپ کا مارکیٹ میں ایک آرٹسٹ کے طور پر بڑا نام ہے تو پھر بس آپ کا جو دل چاہے کریں ۔آپ کے ہاتھ سے نکلی ہر چیز چاہے وہ کام آپ نے نیند میں کیا ہو یا آپ سے غلطی سے ہو گیا ہو، وہ آرٹ ہی کہلائے گا۔ اس کا بہترین نمونہ حال ہی میں ہونے والی "میگنم پارٹی" ہے۔ جس میں نمونے ہی نمونے دیکھنے کو ملے۔ یوں لگتا تھا جیسے کوئی مقابلہ جاری ہو کہ کون لوگوں کو آرٹ کے نام پر زیادہ اچھی طرح بیوقوف بنا سکتا ہے۔ تمام ہی فنکاروں نے "میگنم پارٹی" کو بھر پور طریقے سے بیوقوفوں کی پارٹی بنایا۔ لیکن بیوقوف صرف پارٹی میں موجود لوگ خود ہی بن رہے تھے جو خود اس بیوقوفانہ پارٹی کا حصہ بنے اور خود ہی اسے آرٹ سمجھ کر انجوئے بھی کیا۔ پارٹی میں بہت سے اداکار اور گلوکاروں نے بھی شرکت کی۔ وہاں پر ہونے والے فیشن شوز میں فیشن آرٹسٹس نے ماڈلز کو خلائی مخلوق بنا کر پیش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ معروف فیشن ڈیزائنرعلی ذیشان کو ہی دیکھ لیں انہوں نے نہ جانے اپنا کون سا شوق پورا کیا کہ اپنی ٹوپی پر ایک مرغا اور کندھے پر ایک انڈا چپکا لیا اور یہ دکھانے کی کوشش کی کہ مرغے نے ان کے سر پر بیٹھ کر کندھے پر انڈا دے دیا ۔ خدا جانے اس میں کیا فیشن تھا۔ شاید علی ذیشان کا ارادہ اب پولٹری فارم کھول لینے کا بھی ہے۔آرٹسٹ کا پولٹری فارم!
magnum_party
ان صاحب کو بھی دیکھ لیں یہ سینٹری مارکیٹ میں کام کرنے والے کوئی مزدور لگ رہے ہیں جنہوں نے اپنے پورے سر اور جسم پر پائپ لاد لئے ہیں، لیکن نہیں ایسا نہیں ہے یہ تو فیشن ہے، آرٹ ہے۔
magnum_party1
یہ بھائی صاحب میگنم پارٹی میں چاکلیٹ ٹب میں آرام کرتے دکھائی دئیے۔ یہ پارٹی میگنم کی تشہیر کے لئے تھی لیکن اس تصویر کو دیکھنے کے بعد کیا کوئی چاکلیٹ یا میگنم کھانا پسند کرے گا؟ کم از کم میں تو نہیں۔
magnum_party2
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial