No Image
Facebooktwittergoogle_pluslinkedin

بیوٹی کریم بھی گولمال

|
جنوری 16, 2017


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
گورا ہونا اور خوبصورت دکھنا مشکل کام تھا مگر پاکستان میں موجود بہت سی کریمز نے یہ کام کیا بہت ہی آسان۔ لیکن گوری رنگت کے خواہش رکھنے والے خواتین و حضرات کے لیے ایک بہت بری خبر آگئی ہے۔ بی بی سی کی ایک ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں موجود بہت سی بیوٹی کریمز مضرِ صحت اشیاء استعمال کررہی ہیں جس کی وجہ سے کینسر کا بھی خطرہ ہے۔ بی بی سی کے مطابق ان کریم کے اندر ہائیڈروکونون اور مرکری جیسے زہریلے اجزاء استعمال کیے جارہے ہیں جو نہ صرف کینسر کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ انسانی اعضاء کو خراب بھی کر سکتے ہیں۔ لندن ٹریڈنگ اسٹینڈرڈ نے پندرہ دوکانوں کو انھیں کریمز کی وجہ سے پکڑا ہے اور گیارہ ہزار پاؤنڈ جرمانہ لگایا ہے۔ ان میں بہت سی جانی پہچانی کریمیں بھی شامل ہیں ۔ پاکستان کی عوامی رنگ گورا کرنے والی ، فائزہ بیوٹی کریم کی حقیت بھی سامنے آگئی ہے جسے ہماری عوام "یا فائزہ" اور "بائیس اکتیس نوے" کے نام سے بھی جانتی ہے۔ اس کے علاوہ مشہور کریم جسے لگا کر مرد آپ کو دیکھ کر رک جائیں یعنی اسٹل مینز کریم اوراس کے ساتھ گولڈن پرل وائیٹنگ کریم بھی مجرم بن کر اس رپورٹ میں سامنے آئے ہیں ۔ باقی اور بھی بہت ہی کریم ہیں جن کی اس ویڈیو میں نشاندہی کی گئی ہے۔ گوری رنگت کے پیچھے بھاگنے سے کہیں آپ اپنی قدرتی خوبصورت کھونے کے ساتھ کسی مہلک بیماری کو گلے نہ لگالیں۔ کراچی میں موجود اکثر بیوٹی پالر بھی اسی طرح کی ناقص چیزیں استعمال کرتے ہیں مگر گوری دکھنے اور ہمارے معاشرے کی خوبصورتی کے معیار کی وجہ سے خواتین ان پارلر اور ایسی مضر کریم کی طرف متوجہ ہوتی ہیں۔ خواتین اب اس بات کو سمجھیں کہ مصنوعی خوبصورتی اور فوری رنگ گورا کرنے والی کریمیں سوائے دھوکے کے اور کچھ نہیں۔
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial