No Image
Facebooktwittergoogle_pluslinkedin

مسرت مصباح بھی فکر میں

|
فروری 1, 2017


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
پاکستانیوں کی سوچ میں خوبصورتی صرف گورا رنگ ہے ، گوری رنگت ہوگی تو ہی خوبصورت تسلیم کیا جائے گا۔ اسی سوچ کی وجہ سے یہاں آئے دن کوئی نہ کوئی نئی بیوٹی کریم اور وائیٹنگ کریم متعارف کرائی جاتی رہتی ہیں۔ اب تو یہ بات بھی سامنے آگئی ہےکہ یہ ساری کریمیں انتہائی ناقص اجزاء سے تیار کی جاتی ہیں جس کا نتیجہ بہت خطرناک اور جان لیوا بھی ہوسکتا ہے۔ ان میں سے بہت سی کریمیں ہائیڈروکونون اور مرکری استعمال کررہی ہیں جو کینرت جیسے مہلک مرض کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اسی طرح یہی گورا ہونے کی سوچ ہر گلی کوچے میں کھلے بیوٹی پارلر کو فروغ بھی دیتی ہیں ۔
ان سب وجوہات کو مد نظر رکھتے ہوئے مسرت مصباح حکومت سے مطالبہ کرتی ہیں کہ ان سب کریم بنانے والوں کے خلاف سخت کاروائی ہونی چاہیئے۔ مسرت مصباح میک اپ اور اس کی مصنوعات کی معلومات پر عبور رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایک این جی او بھی چلاتی جس میں مظلوم اور بے سہارا عورتیں، جو مختلف تشدد اور تیزاب کا نشانہ بنتی ہیں ، ان کا نہ صرف علاج کیا جاتا ہے بلکہ انھیں بیوٹی ٹریننگ بھی دی جاتی ہے اور وہ عورتیں پھر انہی کے ساتھ عزتدار کام کرتی ہیں۔
مسرت مصباح کہتی ہیں کہ یہ مسئلہ ایک خطرناک سطح تک بڑھ گیا ہے ۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ قبائلی لڑکیاں جن کا رنگ پہلے ہی گورا ہے،وہ بھی اس طرح کی کریمیں استعمال کر کے اپنی جلد کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
ہمارےمعاشرے کو اپنی اس سوچ کو بدلنا ہوگا۔ گورا رنگ ہونے یا نہ ہونے کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے آپ خوبصورت نہیں۔ قدرتی خوبوکرتی ہی اصل ہے ، اسے مصنوعی طور پر حاصل کی جانے والی خوبصورتی کے پیچھے بھاگ کر ضائع نہیں کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وقتی خوبصورتی کے ساتھ ہمیشہ کی بیماری اور جان لیوا نتائج بھی مل جائیں۔
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial