No Image
Facebooktwittergoogle_pluslinkedin

لٹ مچ گئی

|
اپريل 2, 2016


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
گرمیاں اپنے ساتھ بہت سی سوغات لاتی ہیں۔ پھلوں کا بادشاہ، آم، ساحل سمندر پر جانے کا شوق، ٹھنڈے مشروبات۔لیکن ایک خاص چیز جس کا انتطار ،خواتین کو شدت سے ہوتا ہے، جس کا چرچہ جگہ جگہ ہوتا ہے، جس کا مقابلہ خواتین میں جاری ہوتا ہے، گرمیاں آتے ہی کثرت سے دکھائی دیتی ہےاور جس کے لئے ڈھیروں دولت لٹائی جاتی ہے۔۔۔ وہ ہے لان ۔
سڑکوں پر بل بورڈز صرف لان کے اشتہارات سے سجےہوتے ہیں، مشکل سےہی کوئی بل بورڈ ایسا دکھائی دیتا ہے جو لان کے اشتہار سے نہ ڈھکا ہو۔ چلو کوئی دو چار برینڈز کے اشتہارات ہوتے تو ٹھیک بھی تھا، لیکن جس بل بورڈ پر نگاہ ڈالو ایک نیا نام اور ایک نیا چہرہ۔ بچوں کے نام ڈھونڈنے کی کتاب میں اتنےنام نہیں، جتنے لان کے برینڈ ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی اشتہارات پر آڑے ترچھے انداز میں آرام کرتی ماڈلز۔ جن میں اکثریت کی تصاویر دیکھ کر آندھی ، طوفان یاد آجاتے ہیں۔۔۔ ارے ہاں بھئی آندھی ،طوفان ۔ سب کے دوپٹے ہواؤں کے ساتھ دوڑے چلے جاتے ہیں، بمشکل ہی بے چاریوں نے قابو کیا ہوتا ہے۔
لان غریبوں کا کپڑا تصور کیا جاتا تھا کیونکہ یہ بہت کم قیمت میں دستیاب ہوتا تھا۔ لیکن جب سے اونچے طبقے کا جادوئی ہاتھ اس پر پڑا۔ یہ آرام غریب تو غریب متوسط طبقےکی پہنچ سے بھی بہت دور ہو گیا۔ کیونکہ اس برانڈڈ لان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ اس کے باوجود خواتین پر لان کا اتنا خبط سوار ہوتا ہے کہ مہنگی سے مہنگی لان خریدنے کا ایک مقابلہ لگا ہے۔ بس جہاں لان کی سیل لگ جائے وہاں لگتا ہے جیسے فری بٹ رہی ہو۔ اور اگر اعلان یہ ہو کہ سیل صرف محدود مدت کے لئے ہے یا لمٹڈ سٹاک بچا ہے تو وہ جگہ میدان جنگ میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے ۔خواتین کا بس نہیں چلےکہ وہ لان کی خریداری پر لڑ لڑ کر ایک دوسرے کا قتل کر ڈالیں۔یہ حالات دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ مستقبل میں لان سنہار کی دکان پر سونے کے بھاؤ بکا کرے گی اور اس کے باوجود اس کی مانگ بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial