No Image
Facebooktwittergoogle_pluslinkedin

کیفیات عمرانی

|
اکتوبر 14, 2016


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
پہلے ایسا لگتا تھا کہ عمران خان صرف پاکستان میں پایا جاتا ہے۔ جو صرف پاکستان میں ہی بیکار کی باتیں کرتا ہے۔یہیں کی عوام کو بیوقوف بنانا اور یہیں کا سکون برباد کرنا اس کا کام ہے۔ لیکن یہ بات غلط ہے۔ جب سے دیکھا ، میں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو، مجھ کو سمجھ آگئی۔ اصل میں عمران خان کسی بندے کا نام نہیں بلکہ کیفیت کا نام ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ میں بھی وہی کیفیت پائی جاتی ہے۔
امریکا میں صدارتی انتخاب ہونے والا ہے۔8 نومبر 2016 کو ہونے والے انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی کی ہیلریی کلنٹن اور ریپبلیکن پارٹی کے ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان مقابلہ ہے۔ اس وقت امریکا کے صدر ، براک اوبامہ ہیں، جو خود ڈیموکریٹک پارٹی کے ہیں ۔ اس لیے ڈونلڈن ٹرمپ کو ابھی سے انکشاف ہوگیا ہے کہ الیکشن میں دھاندلی ہونے والی ہے۔ اور ہلرکی کلنٹن کا پہلے سے حکومت کے ساتھ مک مکا ہو چکا ہے۔ ابھی الیکشن تو ہونے دو پھر پتا لگے گا۔ ویسے تو امریکا کو ہر معاملے میں خلیفہ سمجھتے ہیں تو دھاندلی جیسی کرپشن، توبہ کرو ٹرمپ۔
عمرانی کیفیت جب انسان میں آجائے تو بس اسے ہر جگہ اپنے چاہنے والے ہی نظر آتے ہیں ۔ جلسوں میں ایک گلی میں موجود افراد لاکھوں کی تعداد ہوتی ہے۔ اور دوسری نشانی اس کیفیت کی یہ ہے کہ بات بے بات انسان دھرنے کاڈرامہ کرنے پر آمادہ رہتا ہے۔ یہ ساری نشانیاں ڈونلڈ ٹرمپ کے اندر بھی پائی گئی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی عمرانی کیفیت نے جوش مارا تو انھوں نے بھی ہارنے کی صورت میں عوام کو سڑکوں پر اتارنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جلسوں میں لاکھوں لوگ نظر آنا شروع ہوگئے ہیں جو ان کا ساتھ دیں گے۔ اب یہ کیفیت امریکا میں بیدار میں ہوچکی ہے اس لیئے نشانہ رائیونڈ نہیں بلکہ واشنگٹن ہے۔ واشنگٹن کو بند کر دیا جائے گا۔
اس عمرانی کیفیت کا اعلاج بہت ضروری ہے۔ ورنہ یہ کیفیت خود تو پیسوں میں عیاشی کرتی رہتی ہے، عوام کو عوام کے نام پر محتاج کردیتی ہے۔ ملک میں تفریحی مقامات تو ہیں نہیں ، اسی بہانے تھوڑا ناچ گانا موج مستی ہوجاتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو چاہیئے اپنا اور عوام کا وقت ضائع نہ کریں۔ ابھی سے اپنا نام صدرِ امریکا اور اپنے گھر کا نام وائیٹ ہاؤس رکھ لیں ۔
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial