No Image
Facebooktwittergoogle_pluslinkedin

ساتھ ابو تھے نہ باجی، کیسے کرتا ججوں کو راضی۔۔۔

|
مئی 31, 2017


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
حسین نواز جے آئی ٹی تفتیش کے لیے جلوہ آفروز ہوئے تو اس وقت وہ روزے کی مبارک حالت میں تھے مگر ان ظالم ججوں نے پھر بھی معصوم حسین نواز کو دھائی گھنٹے پہلے تو انتظار کروایا اور پھر تفتیش کا عمل جاری کیا ۔
حسین نواز تو وہ شریر بچے ہیں جنھیں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت تک نہیں۔ وہ مریم نواز کےگھر میں عدم موجود گی پرسیر سپاٹے و موج مستی کرنے ذرا باہر جاتے ہیں اور مونگ پھلی کے دانے اپنے مبارک پیٹ کی نذر کرتے ہیں۔ ایسے معصومانہ شریر بچے سے ساڑھے چھ گھنٹے کی طویل کی تفتیش کی جائے گی تو طبیعت خراب ہونا یقینی ہے۔
حسین نوا ز کی طبیعت اتنی ناساز ہوگئی کہ ایمبولینس بلوانی پڑی۔ وہ روزے سے تھے ۔ ان کا روزہ توڑ کر چکنا چور کرنا پڑا۔ وہاں موجود ہر آنکھ اشک سے تر تھی، سب کو روزہ ٹوٹنے کا افسوس کھائے جارہا تھا اور ہر ہاتھ اٹھے دعا کر رہے تھے کہ کسی طرح اتحاد شوگر مل کا لیول نارمل ہوجائے ۔ اس کے لیے جتنے گنے زبردستی سستے داموں خریدنے پڑے، خرید لیں گے۔
جے آئی ٹی نے ضرور ایسے سوال کیے ہونگے جن کی اولادِ شریف ابنِ شریف، نواز شریف کے معصوم فرزند نے تیاری نہیں کی ہوگی۔ ساتھ ابو تھے نہ باجی، کیسے کرتا ججوں کو راضی۔۔۔ جو سوال کرنے ہیں وہ پہلے سے بتادیئے جائیں، بچوں کو تیاری کروانی پڑتی ہے۔ وہ منجھے ہوئے کھلاڑی نہیں ہیں کہ تیسری دفعہ پھر اقتدار میں آجائیں۔
بے چارے حسین نواز نے دھائی گھنٹے انتظار کروانے پر گلا کیا اور کسی بھی بدسلوکی پر ابو سے شکایت کرنے کی دھمکی دی۔ اپنے شریرانہ انداز میں کہا کہ کسی کا رویہ خراب ہوا تو کوئی یہ امید نہ رکھے میں کورٹ میں نہیں جاؤنگا۔ پھر اپنی نورانی گاڑی میں بیٹھ کر امی کے پاس گھر چلے گئے۔
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial