No Image
Facebooktwittergoogle_pluslinkedin

مسئلہ چاند

|
مئی 26, 2017


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
چاند جتنا شاعری میں اہم نہیں اس سے زیادہ پاکستان میں 29 شعبان اور 29 رمضان کو اہم ہوجاتا ہے۔ اس لیے نہیں کے اسے دیکھ کر روزے رکھنے ہیں اور اسے دیکھ کر عید منانی ہے بلکہ اس لیے اہم ہوجاتا ہے کیونکہ پاکستان کے پاس دو چاند ہیں۔ ایک پشاور کا چاند جو وقت سے پہلے ہی دکھ جاتا ہے اور دوسرا رویتِ ہلال کمیٹی کا چاند جو وقت ختم ہونے کے بعد آدھی رات تک بھی نظر آسکتاہے۔
ویسے تو چاند سے شہادت لی جاتی ہے ، کہ میرے یار سا حسیں دیکھا ہےکہیں اور چاند اپنی چاندی کی قسم کھا کر فوراًہی کہتا ہے ، نہیں ، نہیں ۔۔نہیں۔۔۔ لیکن جب چاند کےحوالے سے شہادت لی جائے تو پاکستان میں گھنٹوں کا وقت درکار ہوتا ہے۔ اس شہادت کو پانے کے لیےٹی وی کے اندر اور سامنے سب سر جوڑے بیٹھے ہوتے ہیں۔
اس نئے دور میں جہاں چاند کا مسئلہ، مسئلہ ہی نہیں ، ہم پھر بھی ہر سال اس میں پھنس جاتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے چاند کے ہونے یا نہ ہونے کاحتمی طور بتایا جاسکتا ہے، مگر پھر بھی ہر سال ہم دو عیدوں کا رونا روتے ہیں اور عید و رمضان کے آنےسے پہلے چاند کے "ایڈوینچر" سے گذرتے ہیں۔ بہتر ہے کہ اس کام کو انھیں دے دیا جائے جو ادارے اسےمؤثر انداز میں کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے کسی کمیٹی یا مرکزی مسجد کے فیصلے کی خاص ضرورت نہیں۔
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial