No Image
Facebooktwittergoogle_pluslinkedin

وقار ذکا… سستی شہرت کی ناکام کوشش

|
جون 5, 2017


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
پاکستان میں آرٹسٹ کی قدر اسی وقت ختم ہوجاتی ہے جب وقار ذکا بھی اپنے آپ کو آرٹسٹ میں شمار کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر سستی شہرت کمانے کے خواہش مند وقار ذکا ، عامر ذکی کی انتقال پر بھی پیچھے نہیں رہے۔ایدھی سینٹر اپنا موبائل لے پہنچے اور بندر والے کی طرح ڈُگڈگی بچانا شروع کردی۔ عامر ذکی، پاکستان کے مشہور موسیقار اور گیٹارسٹ تھے جن کا کچھ روز قبل ہی انتقال ہوگیا۔
اپنی ویڈیو میں وقار ذکا نے علی حیدر، حدیقہ کیانی اور احمد جہانزیب سے بھی سوال کیا کہ کہاں ہیں یہ سارے جنھوں نے عامر ذکی کے ساتھ کام کیا تھا۔ انھوں نے تو یہ تک بھی کہنے میں آر محسوس نہیں کی جیسے سارے آرٹسٹ کیمرے کے بھوکے ہیں اور جب میڈیا آجائے گا تب سب چلے آئیں گے۔
علی حیدر نے ان کےجواب میں ویڈیو بنائی جس میں بتایا کہ وہ تو خود امریکا میں ہیں اور حدیقہ کیانی لاہور میں مقیم ہیں۔ مگر وقار ذکا تو کراچی میں موجود تھے ۔ جو یہاں نہیں ہےاس سے وقار ذکا کیسے گلا کرسکتے ہیں جب کہ وہ خود کراچی میں رہتے ہیں۔ عامر ذکی کی معاشی حالت کا تماشا بنانے والے وقار ذکا بتائیں کہ انھوں نے خود عامر ذکی کے انتقال سے قبل ان کا کتنا خیال کیا۔ علی حیدر نے سوال کیا کہ وقار ذکا تو بہت بڑے سوشل ورکر بنتے ہیں تو وہ خود کہاں تھے۔
ایک شخص جسکا انتقال ہوگیا اس کی زندگی کا، اس کی معاشی حالت کا تماشا بناتے ہوئے شرم آنی چاہیئے۔ واقعی وقار ذکا کی اصلیت تو سب جاتنے ہی ہیں مگر یہ اس قدر گر جائیں گے کوئی سوچ نہیں سکتا تھا۔ پاکستان میں فنکار کی قدر اگر نہیں ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ آرٹسٹ کی موت کا پوری دنیا میں مذاق بنا کر رکھ دیا جائے۔ عامر ذکی تو اس دنیا سے چلے گئے، اب دیکھتے ہیں باقی جتنے فنکار، جو بہت مشکل میں زندگی گزار رہے ہیں انکے لیے یہ سوشل میڈیا کے مداری کیا کرتے ہیں۔
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial