No Image
Facebooktwittergoogle_pluslinkedin

جی سے گلالئی

|
اگست 3, 2017


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
ایم این اے عائشہ گلالئی وہ واحد سیاستدان ہیں جو ایک بار پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کرلیں تب بھی این اے ون کے ٹکٹ کی بات کر لیتی ہیں۔ عمران خان پر کوئی الزام لگائے تو گندے گندے میسج کے باوجود میڈیا پر آکر ان کا دفاع کرتی رہیں اور نہ صرف دفاع کیا بلکہ ہر گھر سے بھٹو کی طرح عمران خان نکلنے کی نوید بھی سنائی۔ یعنی عائشہ گلائی چاہتی تھیں کہ پاکستان کے ہر گھر سے گندے گندے میسج کرنے والے اور خواتین کی توہین کرنے والے نکلیں۔ عمران خان کی تو قسمت ہی خراب ہے،گھروالی یہ کہہ کر چلتی بنی کہ مجھے عمران خان کے کتے پالنے پڑتے تھے تو ایم این اے نے گندے پیغام کا الزام ہی لگا دیا۔عائشہ گلالئی ابھی تک کوئی ثبوت تو پیش کر نہیں پائی البتہ خواتین کا نعرہ لگا کر وہ ہمددردیاں سمیٹنے میں لگی ہوئی ہیں جو کہ انہیں ملنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا نواز شریف کا شریف ثابت ہونا۔ پانامہ کیس سے پی ٹی آئی کی نومولود سیاست پر وہ دھجکے پہنچے ہیں جو ایک نہ ایک دن پہنچنے ہی تھے۔ خواتین میں پہلےناز بلوچ نے پی ٹی آئی سے رخصت لی پھر عائشہ گلالئی نے جاتے جاتے سب کو بہت ہنسا دیا۔ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی نااہلی کے بعد اچانک عائشہ گلالئی میں جاگنے والی غیرت کو شاید بے غیرتی کہنا زیادہ بہتر ہوگاکیونکہ الزام لگایا، پی ٹی آئی کو الوداع کہااور ثبوت کو نواز شریف کی طرح وقت آنے پر پیش کرنے کی بات کردی۔۔۔ عائشہ گلالئی کی اس حرکت کے بعد ایک بات تو واضح ہوگئی کہ پاکستان میں خواتین کو مردوں پر الزام لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ گلی محلے ہوں یا ایوان، پاکستان میں ہر لمحہ خواتین کی آواز پر لبیک کہنے والے تیار رہتے ہیں۔ اب وہ چاہے بے بنیاد اور بنا کسی ثبوت کے الزام لگائے ۔
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial