No Image
Facebooktwittergoogle_pluslinkedin

کراچی ڈوب گیا

|
اگست 23, 2017


Facebooktwittergoogle_pluslinkedinکراچی انتظامیہ کی نااہلی ظاہر کرنے کے لیئے پاناما اسکینڈل کی ضرورت نہیں بلکہ ایک بارش ہی کافی ہوتی ہے۔ پہلے کافی عرصے تک تو شاہراہ فیصل پر ہونے والے ترقیاتی کام نے شہریوں کا جینا محال کیا جو کہ اب تک جاری ہے۔ اس کے ساتھ گذشتہ دو روز ہونے والی طوفانی بارشوں نے شہر انتظامیہ کی برق رفتاری کو واضح کر دیا کہ گھنٹوں گذرنے کے بعد بھی شہر میں جمع پانی شہریوں کو منہ چڑھاتا رہا ۔
21057185_2462949620597275_1490143757_o
شہریوں کو اپنی منزل تک پہنچنے میں کس دشواری کا سامنا رہا اس سے انتظامیہ کو کوئی سر و کار نہیں۔ نکاسی کے ناقص نظام کی وجہ سے سڑکوں پر پانی کھڑا رہا اور ٹریفک لمبی قطار میں کسی پینشن لینے آئے بزرگ کی طرح رکا رہا ۔ کئی جگہ لمبا انتظار کھڑے کھڑے گزرا تو کہیں کچھوے کی چال نے منٹوں کا سفر گھنٹوں میں بدل دیا۔
21082064_2462949587263945_669031883_o
سمندر کے کنارے کسی شہر کے ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہاں جتنا بھی پانی آجائے پریشانی کا باعث نہیں ہوگا۔ یہ تو پھر بھی صرف بارش کا پانی تھا، کراچی کے شہری تو گٹر کے پانی میں رہنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ تقریبآ ہر گلی کے کنارے ابلے گٹر میں زندگی گزارنے والوں کے لیے کوئی مسئلہ ہی نہیں کہ بارش کا پانی صاف کردیا گیا یا نہیں۔
21057852_2462949567263947_498029767_o
ابھی جتنا پانی کراچی میں جمع ہے، یہ انتظامیہ کے ڈوبنے کے لیے بہت زیادہ ہے، ایسی حالت میں چلّو بھر کافی ہوتا ہے۔ اور دوسری طرف عوام تو ہے ہی مویشیوں کے اس ریوڑ کی طرح جسے جہاں چلا دو چل دیتی ہے۔ اس لیے جتنے بھی زخم ملتے رہیں ، خاموشی کے مرہم سے علاج جاری رہے گا۔ آخر میں احمد فراز سے معذرت کے ساتھ۔۔۔
ان بارشوں سے دوستی اچھی نہیں کراچی۔۔۔ سوکھے تالاب تیری سڑکیں ہیں ، کچھ تو خیال کر
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial