No Image
Facebooktwittergoogle_pluslinkedin

عظیم صحافی، سالے کافر کے قلم سے

|
جون 3, 2016


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
لندن (رپورٹ : سالے کافر) پاکستانی قوم سوگ میں تھی۔ آج وزیر اعظم کے دل کا آپریشن ہونا تھا۔ مسجدیں دعاؤں سے گونج رہی تھی۔ جب انھیں آپریشن کے لیے لے جایا جارہا تھا تب راستے میں عمران خان نے اپنے شیاطین بھیج دیے ۔ عمران خان نے بابا بنگالی (محبوب آپکے قدموں میں ، عمل کا اثر سات سمندر پار ) سے"گو نواز گو "کےمنتر پڑھوانا شروع کردیے تھے ۔ لیکن میاں صاحب کو روکنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔ وہ ایک دفعہ آپریشن کروانے کا سوچ لیں تو وہ اپنے آپ کی بھی نہیں سنتے اور جب وہ پیزہ کھا کر آپریشن کروانے آئیں تو اپھر اپنے باپ کی بھی نہیں سنتے۔ قدرت نے بھی ملکِ پاکستان میں آندھی چلا کر دکھا دیا کہ اے عمران سدھر جا ۔۔۔ سدھر جا نہیں تو شہباز آجائے گا ۔
نواز شریف صاحب کے بیڈ نے اپنے آپ کو ٹرانسفارم کیا اور لمبے لمبے قدم لے کر سارے شیطان، جو گو نواز گو کے نعرے اور ٹرین کے انجن پر بیٹھے لانگ مارچ کر رہے تھے ، سب کو کچلتے ہوئے آپریشن تھیٹر جا پہنچا۔ نواز شریف کو ڈاکٹر کے ہاتھوں میں دے دیا اور یہ کہتے ہوئے اپنی آنکھوں سے ٹپکتے آنسو صاف کیے کہ میرے نواز کا خیال رکھنا ۔
یاد رہے کہ نواز شریف صاحب کی اچانک طبیعت خراب نہیں ہوئی ۔پانامہ لیکس تو بس ایک حلہ بنی ورنہ آپ کی طبیعت پچھلے کئی برسوں سے خراب تھی۔ اللہ مجھ پر آپ کا سایہ قائم رکھے۔
آپریشن تھیٹر پہنچتے ہی آپ نے اپنے ورد اور تیز کردیے ۔ اپنے اگلے پچھلے گناہوں کی سچے دل سے توبہ کی اور اپنے بانور ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھایا۔ میں یہ سب کچھ آپریشن بیڈ کے نیچے سے دیکھ رہا تھا۔ میری آنکھوں سے اشکوں کی لری جاری تھی، کیونکہ میرے پاس کینڈی کرش میں لائف ختم ہوگئی تھی۔ میں نے سوچا کہ میں اس لائف کے ساتھ ساتھ میاں صاحب کے لیے بھی دعا کر لوں تاکہ میرے گھر میں کبھی فاقہ کشی نہ ہو۔
ڈاکٹر نے وزیر اعظم صاحب کو بیہوش کیا اور اسکے بعد جیسے ہی آپ کے سینے پر چیرا لگا یا، تھیٹر میں ہر سو نور ہی نور پھیل گیا۔ چاروں طرف روشنی کے چشمے پھوٹ پڑے ۔ آنکھیں چندیانے لگیں اور آپریشن بیڈ کے اوپر لگی لائٹ کی ضرورت ہی ختم ہوگئی۔ اب کھال کو کاٹ کر جب آپ کی پسلیاں کھولی گئی تو روشنی بتدریج اور بڑھتی چلی گئی۔ پھر ڈاکٹر نے انکے دل کی نسیں کاٹ کر دل کو باہر نکالا تو دل سے آوازیں آرہی تھی۔ دل "پاکستان زندہ باد " کا ورد کر رہا تھا۔ انکے دل کو دھونے کے لیے گنگاجل منگایا گیا تھا۔ حیرت کی بات یہ کہ آپ کے بدنِ اقدس و قلبِ مطھر سے خون نہیں نکلا۔ آپ کے دل میں اور پورے بدن میں صرف نور ہی نور تھا ۔ آپ کے اندر عملِ تطھیر ہر لختہ جاری تھا۔
دل کی چار شریانوں پر بائی پاس بنانے کے لیے چار سوت فل گیج سریہ اور خاص سیمنٹ منگائی گئی تھی۔ لیکن یہاں بھی آپ کا معجزہ سامنے آیا۔ آپ کے دل کو سینے میں رکھا گیا تو اسنے خود ہی اپنے آپ کو بائی پاس کے ساتھ لگا لیا ،ڈاکٹر کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ آپ کو آپریشن کے بعد انتہائی نگہداش وارڈ میں شفٹ کیا گیا جہاں آپ کے لیے پیزہ ود ایکسٹرا چیز منگایا جا چکا تھا ۔
پاکستان میں آپ کے کامیاب آپریشن کی خوشخبری میں پہلے تو مسئلہ در پیش ہوا ۔ کسی نے کچھ کہا اور کسی نے کچھ اور۔ پھر بلآخر آپ کی دختر ِآہن نے سب کو یہ خوشخبری سنائی ۔
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial