No Image
Facebooktwittergoogle_pluslinkedin

بھارتی غنڈے

|
اکتوبر 19, 2016


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
کسی کو دنیا میں عذاب بننا سیکھنا ہے تو بھارتی انتہاء پسندوں سے سیکھ لے۔ جو اتنے "دیش بھگت" ہیں کہ اپنی "دھرتی ماں" سے پیار کرنے اور اس کی طرف سے پیار، محبت اور امن کا پیغام دینے والوں کو بھی نہیں بخشتے۔ ان کے دیش کی مٹی پہلے تو سونا ، ہیرے ، موتی اگلتی تھی مگر آج کل صرف غنڈے اگل رہی ہے۔ جنہیں پاکستان سے اتنی نفرت ہے کہ پاکستانی فنکاروں کو دہشت گرد سمجھ رہی ہے ساتھ اپنے ہی لوگوں سے حب الوطنی کا ثبوت مانگ رہی ہے۔
کرن جوہر اسی نفرت کی وجہ سے بھارتی دہشت گردوں کے نشانے پر آگئے تھے۔ ان کی فلم اے دل ہے مشکل میں پاکستانی اداکار فواد خان کا ہونا ان کے لیے وبال بن گیا۔پہلے تو فواد خان کو خط بھیجے گئے بعد میں کرن جوہر کو بھی نہیں چھوڑا ۔ کرن جوہر نے کہا تھا کہ پاکستانی ٹیلنٹ کو روکنے سے دہشت گردی نہیں رک جائے گی۔ یہ بات انکی عوام کو کون سمجھائے، دہشت گردی دونوں ممالک کا مسئلہ ہے۔
دل برداشتہ کرن جوہر نے آخر ایک ویڈیو پیغام بنایا جس میں انھوں نے تھکے ہارے الفاظ میں اپنے ہی لوگوں کو اپنےوطن سے محبت ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ شاید اس معاملے کی حد ہی ہے۔ اس بات سے پتا چلتا ہے کہ بھارت میں سچ بولنے والوں پر کتنا دباؤ ہے۔ کرن جوہرکو ہندوستان سے محبت کے ثبوت میں اس بات کی یقین دہانی کروانی پڑ رہی ہے کہ آئندہ وہ کسی پاکستانی کو اپنی فلم میں نہیں لیں گے۔ ایسا لگتا ہے فلم میں اداکاروں کو لینے سے پہلے بھی بھارتی غنڈوں سے اجازت لینی پڑے گی۔
بھارتی اداکار اوم پوری بھی سچ بولنے پر اس غنڈہ گردی کی ضد میں آگئے تھے۔ بعد میں اپنے الفاظ کو واپس لینا پڑا اور معافی بھی مانگی۔ بھارتیوں سے سچ سنا جاتا ہے نہ حقیقت کا سامنا کر سکتے ہیں۔ فوراً بزدلوں کی طرح دھمکیاں شروع کردیتے ہیں۔
جن فلموں پر ان بھارتی غنڈوں کو مسئلہ ہے تو کم از کم اتنا ہی سوچیں کہ ایک فلم بننے میں کتنی محنت لگتی ہے۔ اور جو فلم ابھی آنے والی ہے وہ سال پہلے سے شروع ہوتی ہے۔ اور جیسا کہ کرن جوہر نے کہا کہ جب فلم شروع ہوئی تھی اس وقت امن کی فضاء بلند تھی۔ لیکن غنڈے اگر سمجھنے لگ جائیں اور عقل استعمال کرنا شروع کردیں تو غنڈہ گردی ہی ختم ہوجائے۔
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial