No Image
Facebooktwittergoogle_pluslinkedin

سلیوٹ

|
دسمبر 5, 2016


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
پاکستان اب ہر قسم کی فلمیں بنا رہا ہے۔ 2015 میں فلم شاہ بنی تھی جو پاکستانی اولمپئین باکسر کی زندگی پر مبنی تھی۔ اب شہزاد رفیق کی ہدایتکاری میں فلم "سلیوٹ" بنی ہے جسےلکھا بھی شہزاد رفیق نے ہے۔
فلم میں عجب گل ، صائمہ نور ، علی محتشم ، نیّر اعجاز ، عدنان خان، راشد محمود اور پرویز کلیم موجود ہیں۔ فلم کی کہانی 2014 میں ہنگو میں شہید ہونے والے اعتزاز حسن کی زندگی پر مبنی ہے۔ جس نے اسکول کے گیٹ پرخود کش بمبار کو روک کر اپنی جان قربان کر دی تھی۔اعتزاز حسن ( علی محتشم) کے کردار کی معصومیت اور بھولا پن جہاں شائقین کو بھایا ، وہیں آخر میں اعتزاز کی شہادت اور اس سے پہلے کے کچھ سینز نے آبدیدہ بھی کردیا۔
wefdqwef
پوری فلم کے دوران اعتزاز کی ماں (صائمہ نور)کے چہرے کے تاثرات حقیقت سے کم نہیں تھے۔ صائمہ نور فلم میں واقعی ایک پختون عورت لگ رہی ہیں ۔ فلم کے ایک سین میں انہوں نے بڑی خوبصورتی سے پختون انداز میں غصہ دکھایا ہے جس نے اس سین کو حقیقت کا رنگ دے دیا ہے۔ اعزاز کے والد (عجب گل) کو ایک ذمہ دار باپ دکھایا گیا ہے جو دبئی میں ڈرائیور ہے۔ عجب گل نے ایک پختون ہونے کے ساتھ ایک ذمہ دار باپ کا کردار بہت خوب نبھایا ہے۔ پختون ثقافت کی خوشبو صائمہ نور اور عجب گل کے لہجے، چال ڈھال، ہنسی اور ڈائیلاگ بولنے کے انداز میں پوری فلم کے دوران رچی بسی رہی۔
wfewfe
نیر اعجازایک اچھے اداکار ہیں مگر اس فلم میں ان کی اداکاری ذرا کمزور رہی۔ دہشت گرد کا کردار ادا کرنے والے نیر اعجاز اکثر سینز میں چھوٹے بچوں کو ڈرانے والے کوئی ولن لگ رہے تھے۔فلم میں میرا بھی گیسٹ اپیرنس کے طور پر نظر آئیں اور اپنی اداکاری سے دل جیت لیا۔
2wrqwefr
فلم کی ایک بہترین بات یہ تھی کہ فلم میں کسی بھی اداکار کو غلط کردار نہیں دیا گیا۔ فلم کے مرکزی کردار اپنی عمر، اور قد و قامت کے لحاظ سے بھی اپنے کرداروں پر پورے اتر رہے تھے۔ فلم اعتزاز کی زندگی کے گرد تو گھومتی ہے مگر اس کے ساتھ ایسے بہت سے مسائل پر بھی روشنی ڈالی گئی جن سے پاکستان اس وقت نمٹ رہا ہے۔ فلم یہ بھی بتاتی ہےکہ کس طرح دہشت گرد اسلام کا نام استعمال کر کے مسلمانوں کو دنیا میں بدنام کرتے ہیں۔ فلم میں شیعہ، سنی اتحاد کا پیغام بھی بہت خوبصورتی سے دیا گیا ہے۔
wqedwefd
فلم میں سوات اور ہنگو کے دلکش نظارے بے حد حسین انداز میں پیش کیے گئے ہیں کہ دیکھنے والا ان کے سحر میں ڈوب جائے۔ جذبہ حب الوطنی سے سرشار فلم اگر دل کو نہ چھوتی تو ایک ادھورا پن سا رہ جاتا۔ کچھ سینز میں فلم کا بیک گراؤنڈ اسکور اور بہترین اداکاری ایسا حسین امتزاج پیش کرتے ہیں کہ آنسو بے اختیار آنکھوں سے ٹپک پڑتے ہیں۔ اگر ہم ایک اچھی فلم بنانے کے بعد کچھ پہلوؤں پر غور کریں تو فلموں کومزید کامیاب کیا جاسکتا ہے۔ اس فلم کو 14 اگست یا اگست کے مہینے میں ریلیز کیا جاتا تو زیادہ عوام کوسینما کی طرف متوجہ کیا جا سکتا تھا۔
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial