No Image
Facebooktwittergoogle_pluslinkedin

رمضان میں مومنہ

|
مئی 17, 2017


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
رمضان کےآتے ہی جہاں چینلوں کو رمضان ٹرانمیشن سے اپنے گناہ بخشوانے ہوتے ہیں وہیں جو ٹرانسمیشن نہیں کر پاتے وہ اپنے فن سے یہ کام انجام دیتے ہیں۔ اسی لیےمومنہ مستحسن نے مشہور "قصیدہ بردہ شریف" پڑھنے کا فیصلہ کیا ہے جسے شیراز اُپل پروڈیوز کریں گے۔ نعت پڑھنا ویسے تو بہت اچھی بات ہے اور اس میں آواز کا جادو اور لہجے کی مٹھاس کو نہیں دیکھا جاتا، لیکن مومنہ مستحسن جب یہ کام خاص رمضان کے لیے کریں تو مقصد سوائے نام کمانے کے کچھ نہیں ہوتا۔
مومنہ مستحسن کو عوام نے ان کی آواز سے زیادہ شکل و صورت اور خوبصورتی کی بنا پر گلوکارہ تسلیم کیا ہے۔ ورنہ انھوں نے کوک اسٹوڈیو میں راحت فتح علی خان کے ساتھ مشہور قوالی "آفرین آفرین " کا جو حال کیا ہے، وہ قابلِ معافی نہیں تھا۔
اس سے پہلے مومنہ مستحسن نے بھارتی فلم "ایک ولن" میں گانا "آواری" گایا تھا۔ پچھلے سال انھوں نے پاکستانی فلم "زندگی کتنی حسین ہے" کے لیے بھی گانا گایا تھا۔ مگر ان میں صرف انکی آواز سنائی دی تھی اس لیے مشہور نہیں ہوئے۔ اس کے بعد پی ایس ایل میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے لیے گانا گایا جس کی ویڈیو میں کرکٹ کے مناظر کم ہی تھے ، پوری ویڈیو میں مومنہ مستحسن ہی چھائی رہیں۔
رمضان میں قصیدہ بردہ شریف کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہوسکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بار انکی آواز انھیں مشہور کرتی ہے اور پسندیدگی کی وجہ بنتی ہے یا ان کے کھلے بال، سرخ گال اور نشیلی آنکھیں اس بار بھی بازی ماریں گے۔
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial