No Image
Facebooktwittergoogle_pluslinkedin

ہندی میڈیئم

|
مئی 22, 2017


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
معاشرے کے اہم مسئلہ پر حقیقت کو واضح کرتی فلم، جس کا اختتام بالکل بھی روایتی بھارتی فلموں کی طرح نہیں ہے۔ ہندی میڈیئم پاکستانی ادکارہ صبا قمر کی پہلی بھارتی فلم ہے، اور پہلی فلم میں ہی ان کی اداکاری اتنی شاندار رہی کہ لگ ہی نہیں رہا وہ اداکاری کر رہی ہیں۔ فلم ہندی میڈیئم بنیادی تعلیمی مسئلہ کو ابھارتی ہے جو کہ بھارت اور پاکستان کا مشترکہ مسئلہ کہا جاسکتا ہے۔ فلم میں دہلی کے والدین (عرفان خان اور صبا قمر) اپنی بیٹی پیا بترا کے اسکول میں داخلے کے لیے بہت پریشان ہیں۔ سرکاری اسکول کی برائیوں کی وجہ سے وہاں داخلہ نہیں کروانا چاہتے اور دہلی کے اچھے پرائیویٹ اسکول میں داخلہ ملنا، لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے۔ فلم کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اسکی کہانی بنگالی فلم رام دھانو سے بہت مشابہت رکھتی ہے۔
فلم میں مرکزی کردار عرفان خان(راج بترا) اور صبا قمر (میتا/مٹھو) نے نبھایا ہے۔ ان کے علاوہ فلم میں دیشیتا سیگل(پیا بترا) ، دیپک دوبریئل اور امریتا سنگھ بھی موجود ہیں۔ فلم کے ہدایت کار ساکیت چوہدری ہیں اور فلم کی معاشرتی مسئلہ کو خوبصورتی سے ابھارتی ہوئی کہانی زینت لاکھانی نے لکھی ہے۔ فلم کی ہدایت کاری ہر اعتبار سے مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جس طرح سے سین میں فریم ترتیب دیا گیا ہے دیکھنے والے کے لیے بالکل بوجھل نہیں ہوتا۔
hindi 1
عرفان خان اپنی مختلف اداکاری سے ہمیشہ ہی دیکھنے والوں کا دل جیت لیتے ہیں، اس میں بھی انکی منفرد اداکاری اور ڈائیلاگ بولنے کے انداز سے عرفان خان کو "بیسٹ چوائس" قرار دیا جا سکتا ہے۔ صباء قمر نے بھارت جاکر بھی یہ ثابت کیا ہے کہ وہ پاکستان کی بہترین اداکارہ میں شمار کی جاسکتی ہیں۔ ایک پریشان ماں اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے جس طرح حقیقت میں پریشان ہوتی ہے، صباء قمر نے فلم میں اسی احساس کو اداکاری کا ایسا رنگ دیا کہ اداکاری اداکاری ہی نہیں لگی۔
انگریزی محض ایک زبان ہے، یہ انسان کے اچھے برے ہونے یا پڑھے لکھےہونے کا سند نہیں۔ اسکے علاوہ کس طرح امیر لوگ غریبوں کا حق بھی مار دیتے ہیں یہ فلم میں دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ فلم میں کلاس سسٹم کو بھی بہت اچھے طریقے سے واضح کیا ہے۔ اس میں دکھایا ہے کہ کس طرح امیر لوگ ایک دوسرے سے دور دور رہتے ہیں اور غریب محلہ میں سب ایک دوسرے کا دکھ سکھ بانٹتے ہیں۔ اگر کسی کا ساتھ دینے کے لیے جان کی بازی بھی لگانی پڑجائے تو پیچھے نہیں ہٹتے۔ جب کہ امیر لوگ ایک دوسرے سے دور جانے کی وجہ تلاش کرتے ہیں چاہے وہ وجہ صرف انگریزی کا نہ آنا ہی کیوں نہ ہو۔
بنا کسی فضول گانے اور آئیٹم نمبر کے بھی فلم اچھی بنائی جاسکتی ہے، فلم ہندی میڈیئم اسکی بہترین مثال ہے۔ جو محض 130 منٹ میں ہی ہر پہلو کو سمیٹ کر ختم ہوجاتی ہے۔ فلم میں عاطف اسلم نے گانا "حور" گایا ہے اسکے علاوہ فلم میں مزید تین گانے ہیں۔
ہندی میڈیئم لازمی دیکھی جانے والی فلم ہے جسے ایک دفعہ دیکھ کر دوسری بار اپنے آپ دیکھنے کا ارادہ بنے گا۔ فلم کا اختتام روایتی بھارتی فلموں کی طرح جذباتی نہیں ہے، اختتام پر ہی اصل معاشرے کی بے حسی کو واضح کیا گیا ہے۔ ایک امیر ہو یا غریب، اچھی تعلیم سب کا بنیادی حق ہے جو کہ تعلیم کو کاروبار بنا دینے کی وجہ سے غریب کو نہیں مل رہا۔
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial