No Image
Facebooktwittergoogle_pluslinkedin

مہرالنساء کو مادھوری نے بچایا

|
جون 8, 2017


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
ٹریلر دیکھ کر ہی اندازہ لگالیا تھا کہ "مہرالنساء وی لب یو" بھارتی نژاد پاکستانی فلم ہے، اس بات کا یقین اب ہوگیا ہے جب فلم کے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر نے مقامی اخبار سے بات کرتے ہوئے یہ کہا کہ نثاء جاوید نے پہلے تو برفباری میں شوٹنگ کرنے کی حامی بھر لی تھی لیکن جب مقام پر پہنچے توان کو اتنی سردی لگنا شروع ہوگئی کہ وہ گرم کپڑوں میں بھی کانپ رہی تھی۔ ندا یاسر کا کہنا تھا کہ پھر ہم نے مادھوری ڈکشٹ کا گاناجس میں وہ ساڑھی پہن کر برف میں ڈانس کر رہی ہیں ، دکھا کر ثناء جاوید کی حوصلہ افزائی کی۔
لگتا ہے حوصلہ افزائی کرنے کے لیئے پاکستان کے پاس اب بھارتی فلمیں اور گانے ہی رہ گئے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جو چیز جس طرز پر بنائی جائے گی اس کے لیے مثال بھی وہیں سے لی جائے گی۔

#mehrunisavlubu #Mehrunisa #Fpw17 #eidulfitr #SanaJaved⚡️?❤ loved wearing @zaheerabbasofficial ?

A post shared by Sana Javed (@sanajaved.official) on

برفباری میں ثناء جاوید کے "ایکپوسنگ" ملبوسات میں ڈانس اس طرح معلوم ہوا جیسے یش راج فلمز سے کافی متاثر ہو کر اس گانے کی شوٹنگ کی گئی ہے۔ اور اب یہ راز بھی سامنے آگیا کہ اس کے پیچھے مادھوری ڈکشٹ کے گانے حوصلہ بڑھانے کے لیے موجود تھے۔ ویسے ثناء جاوید کی حوصلہ افزائی تو کرلی گئی مگر دانش تیمور کے لیے گرم ملبوسات ہی تیار تھے۔
اگر بالی وڈ کی نقل کرنا اتنا ہی ضروری ہے تو دیکھیں کہ وہ اب اپنی تہذیب اور لوگوں کے مسائل پر فلمیں بنا رہے ہیں۔ فلم "ہندی میڈیئم" میں غریب کے تعلیمی مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ہندی کی اہمیت بھی واضح کی گئی۔ کپل شرما کی آنے والی فلم "فرنگی" بھی ہندی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ مگر پاکستانی فلم ساز فلم بناتے ہوئے پاکستانی تہذیب کو بھول جاتے ہیں۔ فلم میں لباس اور زبان جو استعمال کیے جاتے ان کا پاکستانی تہذیب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial