No Image
Facebooktwittergoogle_pluslinkedin

کوک اسٹوڈیوسیزن10-پہلی قسط

|
اگست 12, 2017


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
کو ک اسٹوڈیو سیزن 10 کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس بار کوئی بھی سٹوڈیو میں کالے چشمے لگا کر نہیں بیٹھا۔ باقی گانے ان کے ویسے ہی اپنے سُر میں بے سُرے اور راگ و تال میں کانوں سے خون نکالنے کی طاقت رکھنے والے ہیں۔ کوک اسٹوڈیو کا نام سنتے ہی یہ پریشانی ہوجاتی ہے کہ اس سیزن کون کون سے گانوں کی قسمت پھوٹی ہوگی۔ ان کا گانوں کے ساتھ یہ امتیازی سلوک کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔
احمد فراز کی غزل "رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ"جسے مہدی حسن نے اپنی آواز کے جادو سے چار چاند لگائے تھے، علی سیٹھی ان چاند پر گرہن بن کر سامنے آئے۔ غزل کے شروع میں "کس کس" پر جس قدر زور دیا ہے اس سے ابتداء میں ہی انتہاء کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ غزل گاتے ہوئے علی سیٹھی نے جس طرح کے منہ بنائے اور راگ آلاپنے کا اظہار کیا ہے اس پر "میم" لازمی بنائے جا سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ کوک اسٹوڈیو سیزن 10 کی پہلی قسط میں مومنہ مستحسن کے ہمراہ دانیال ظفر نے گانا گانے کی ناکام کوشش بھی کی ہے۔ یہ گانا کچھ حد تک سنا اور دیکھا جائے گاکیونکہ اس میں مومنہ مستحسن ہیں۔
حنا نصراللہ اور امانت علی کے "چھا رہی کالی گھٹا" میں بھی خواہ مخواہ کے سر ملانے کی کوشش کی گئی ہے جس کے شروعاتی طرز کو شفقت امانت علی کے "مورا سیاں" سے ملتا ہواکہا جاسکتا ہے۔ آگے چل کر تو گانے کے بول سمجھنا نہایت مشکل ہوگیا ۔
احمد جہانزیب اور شفقت امانت علی کے کلام"اللہ اکبر" کو کوک اسٹوڈیو کے اچھے گانوں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ حمدیہ کلام "اللہ اکبر" میں موسیقی کے آلات کو کم استعمال کر کے اسے مزید بہتر بنایا جاسکتا تھا ۔ اس میں بول سمجھنے مشکل پیش آئی ہے جو کہ اکتاہٹ کا باعث ہے۔
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial