No Image
Facebooktwittergoogle_pluslinkedin

نامعلوم پابندی

|
اکتوبر 7, 2017


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
فلم ریلیز سے پہلے ہی سینسر کے مرحلے سے گزرتی ہے ، لیکن پاکستان میں ریلیز کے بعد بھی سینسر بورڈ جاگ سکتا ہے اور اسکی سوئی ہوئی غیرت اچانک بیدارہوسکتی ہے۔ نامعلوم افراد ٹو بھی اچانک جاگ جانے والے پنجاب سینسر بورڈ کی زد میں آگئی اور پانچ ہفتے کامیابی سے چلنے کے بعد فلم پر اچانک پابندی عائد کردی گئی۔ کہا جارہا ہے کہ پابندی فلم کے غیر مناسب مواد اور عریانیت کی بنیاد پر لگائی گئی ہے۔
سینسر والےبابو اس وقت کہاں تھے جب فلم پہلی بار سینسر بورڈ میں پیش کی گئی۔ آخر فلم اتنی ہی بری تھی تو پہلے کیسے سنیما میں لگنے کی اجازت دے دی گئی۔فلم کے ہدایت کار نبیل قریشی نے فلم پر پابندی کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں پتا سچ کیا ہے مگر اس طرح انڈسٹری کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔
ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا ہے، بلکہ اس سے پہلے فلم مالک پر بھی ریلیز کے بعد پابندی عائد کی گئی تھی۔ نامعلوم افراد ٹو میں تہذیب مخالف اور عریانیت سے بھرپور مواد ہے یا نہیں ہے مگر سوال صرف اتنا ہی بنتا ہے کہ ایک کامیابی سے چلتی ہوئی فلم میں اچانک برائی کیوں اور کیسے نظر آئی۔
پابندی اگر لگانی ہی تھی تو جیسے متحدہ عرب امارات میں فلم پرریلیز سے پہلے ہی پابندی لگائی گئی ایسے ہی لگاتے۔ یواے ای میں فلم پر شیخ البکلاوا کے کردار کی وجہ سے پابندی عائد کی گئی۔سینسر والےانکل کا معیار آج تک کوئی سمجھ نہیں پایا ہے۔ یہ پاکستانی فلم انڈسٹری کے ساتھ مذاق ہوتا نظر آرہا ہے۔ کبھی تو ایسی چیزیں بھی سینسر نہیں کرتے جنھیں واقعی سینسر ہونا چاہیئے۔ کبھی اچانک جاگ جاتے ہیں اور ریلیز کے بعد بھی فضول پابندیاں لگادیتے ہیں۔
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial