No Image
Facebooktwittergoogle_pluslinkedin

اے فلائنگ جٹ

|
ستمبر 2, 2016


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
جیکی شروف کے بیٹے ٹائگر شروف اب تک خود کو ایک کامیاب اداکار ثابت نہیں کر پائے۔ نہ ہی ان کی پہلی فلم نے وہ جادو کیا جیسا کہ بالی وڈ کے نئے اداکار سدھارت ملہوترا اور ورون دھون اپنی پہلی فلم "اسٹوڈنٹ آف دا ائیر" کے ساتھ بالی وڈ پر چھا گئے تھے۔ ٹائگر شروف حال ہی میں اپنی تیسری فلم "اے فلائنگ جٹ" کے ساتھ آئے ہیں۔ فلم کے ڈائریکٹر ریمو ڈیسو زا ہیں جبکہ فلم کی پروڈیوسر ایکتا کپور اور شوبھا کپور ہیں۔ یہ ایک سپر ہیرو فلم ہے۔ ٹائگر شروف کی فلم ہوتے ہوئے اس سےاچھی امید تو نہیں تھی، ٹریلر دیکھ کر بھی دل اکتا گیا تھا لیکن فلم پھر بھی کم از کم دیکھنے کے قابل تھی اور ان کی پچھلی فلم" باغی" سے بہتر تھی۔ فلم کی کہانی کا اصل مقصد دنیا میں بڑھتی ہوئی آلودگی کی طرف توجہ دلانا ہے جو کہ ایک اچھا پہلو ہے۔ فلم کے مرکزی کرداروں میں ٹائگر شروف (امن)، نتھن جونز (راکھا)، جیکلن فرنانڈس (کرتی)، کے کے مینن (مسٹر ملہوترا)، امرتا سنگھ (مسز ڈھلن)اور گورو پانڈے (روہت) موجود ہیں۔امن، جو ایک مارشل آرٹ ٹیچر ہے اسے اپنے ہی اسکول کی ایک ٹیچر کِرتی سے محبت ہوتی ہے۔ ٹائگر فلم میں اور اصل زندگی میں بھی صرف ایک مارشل آرٹسٹ ہی ہیں، اداکار نہیں۔ انہوں نے فلم میں ہنسنے اور ایک معصوم سا چہرہ بنا لینے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ جہاں امن رہتا ہے وہاں ایک درخت ہوتا ہے جس پر سکھوں کے مذہب کامقدس نشان بنا ہوتا ہے ،سب اس درخت کو بہت مقدس مانتے ہیں۔ فلم کی پروڈیوسر کیونکہ ایکتا کپور ہیں تو فلم میں اسٹار پلس کے ڈراموں والا ہندو مذہب کا اثر تو آنا ہی تھا۔امن کی ماں ایک کیمیکل فیکٹری کے مالک مسٹر ملہوتراکو یہ زمین بیچنے سے انکار کر دیتی ہے۔ جس پرملہوترااس درخت کو کاٹنے کے لئے " راکھا" کو بھیجتا ہے جو کہ فلم میں ولین کا کردار ہے ۔ جسے منہ پھاڑ کر ہنسنے کے سوا کچھ آتا ہی نہیں ۔جس رات راکھا درخت کاٹنے آتا اس رات اس درخت سے امن کو پاورز ملتی ہیں اور وہ سپر ہیرو یعنی فلائنگ جٹ بن جاتاہے۔ فلائنگ جٹ کا نیلا کاسٹیوم بھی انتہائی براتھا جو کہیں سے سپر ہیرو کا کاسٹیوم نہیں لگ رہا تھا اور آخر میں سپر ہیرو کو پگڑی پہنا کر تو کمال ہی کردیا۔
راکھا ایک بار پھر واپس آتا ہے اور اس پر شہر کی گندگی اور آلودگی کا ایسا اثر ہوتا ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ طاقت ور ہوجاتا ہے ۔ایک لڑائی میں پہلے فلائنگ جٹ اس سے بری طرح شکست کھاتا ہے پھر وہ اپنے والد جو ایک سکھ اور لڑاکا ہوتے ہیں ان کی پگڑی پہنتا ہے اور پھر اس میں مزید طاقت آجاتی ہے ۔راکھا ہمیشہ سے کہتا ہے کہ "اس دنیا میں کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں تم مجھے ہرا سکو" کیونکہ دنیا میں ہر جگہ آلودگی ہوتی ہے جس سے راکھا کو طاقت ملتی ہے تو فلائنگ جٹ اسے لڑائی کے دوران خلاء میں لے جاتا ہے اور وہاں راکھا کو شکست دیتا ہے۔
nathan-jones-in-a-flying-jatt-movie-galaxy-note-hd-wallpaper
پوری فلم کی کہانی سکھ مذہب کی تشہیر پر گھومتی ہے بس فلم کی کہانی میں سب سے اچھا پہلو دنیا میں ہونے والی آلودگی کی طرف توجہ دلانا ہے۔ فلم واقعی صرف بچوں کے لئے ہی تھی۔ اگر ریمو نے فلم کی زیادہ توجہ سکھ مذہب پر نہ رکھی ہوتی تو فلم کی کہانی کو مزید بہتر بنایا جا سکتا تھا ۔ فلم کی کامیڈی کے حوالے سے گورو نے سب سے بہترین انداز میں اپنا کردار نبھایا۔فلم کی کامیڈی ہی شاید ایک واحد چیز تھی جس نےفلم کو دیکھنے کے قابل بنایا۔
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial