No Image
Facebooktwittergoogle_pluslinkedin

ہو من جہاں، اداکاری میں کیا کمی کیا بیشی رہ گئی

|
جنوری 30, 2016


Facebooktwittergoogle_pluslinkedinپاکستان میں ویسے ہی فلمیں کم بنتی ہیں اور اگر ہم جو فلمیں بنتی ہیں انکی برائی کریں تو آگے اچھی فلمیں بنانے والے میں فلمیں بنانے کا نہیں سوچیں گے۔یہ کہنا میرا نہیں اس سوچ کا ہے جو ہر فلم کے ریلیز ہونے سے پہلے اس کی کامیابی کی نوید سنادیتی ہے۔اس سوچ کا ماننا اپنی جگہ لیکن مجھے ہومن جہاں سے کچھ مسئلے تھے، سوچا کہ آپ کو بھی بتادوں
12656129_2048001715425403_1843581116_o
بشری انصاری صاحبہ کا شمار پاکستان کے ان اداکاروں میں ہوتا ہے جن پر ہمیں ناز ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انکا من جو چاہے وہ کریں۔جس طرح 80 کی دہائی میں عرفان کھوسٹ صاحب ڈائیریکٹ حوالدار کے رول سے باہر نہیں نکل پارہے تھے، ویسے ہی 30 سال بعد بشری انصاری صائمہ چوہدری کے گیٹ اپ سے باہر نہیں آپارہیں۔ فلم کا پہلا سین کسی بھی اداکا ر کے لئے اہم ہوتا ہے اور اسکی کارکردگی کا دارومدار اسی سین پر ہوتا ہے، بشری انصاری نے پوری فلم میں کافی اچھا کام کیا لیکن پہلے سین میں بھی اگر ہیرو کی ماں پر کر آتیں تو اچھا ہوتا۔پھر ہم بھی کہتے کہ میرے پاس ماں ہے۔
12620946_2048001772092064_1193943259_o
چند جگہوں میں شہریار منور بھارتی اداکار ریتک روشن کی اداکاری سے مائل نظر آئے وہ بھی جب وہ کوئی مل گیا میں روہت بنے تھے۔ماہرہ خان نے وہی اداکاری کی جو انہوں نے بن روئے میں کی تھی۔عدیل حسین سے جیسی توقع تھی انہوں نے ویسا ہی کام کیا۔خاص طور پر اس سین میں جب وہ اپنے ماں باپ کے سامنے آتے ہیں، وہ ایک بے اختیار ایکٹر ہیں اور انہیں فلم میں بے اختیار ہی کام کرنے دیا جاتا تو بہتر تھا۔
رہی بات سونیا جہاں کی تو وہ فلم میں سب سے زیادہ خوبصورت آئی ہیں۔ کبھی کبھی تو وہ ماہرہ سے بھی بہتر لگیں۔ انہیں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے لیکن ایسا میں نمرہ بچہ کے بارے میں نہیں کہہ سکتا۔وہ ماہرہ کی بڑی بہن تو ہوسکتی ہیں لیکن اماں نہیں۔انہیں عقلمندی سے رول کا انتخاب کرنا چاہئے ورنہ کل کو انہیں سلیم شیخ کی والدہ کا رول نہ آفر ہوجائے۔
فلم میں معروف اداکار جمال شاہ بھی نظر آئیں گے اور اگر سونیا جہاں کے بعد کسی نے گہرا اثر چھوڑا تو وہ یہی حضرت تھے۔ارشد محمود صاحب ہمیشہ سے ہم سب کے ہر دلعزیز فنکار رہے ہیں لیکن مارلن برانڈو کی طرح صرف سوفے اور کرسی پر بیٹھ کر انہوں نے جو کیا اسے اداکاری نہیں کہتے۔
اور ہاں شکر ونڈا والے گانے پر منہ کا کہیں اور چلنا بھی ڈانس کی شان کے خلاف ہے،امیدہے کہ اپنی اگلی فلم میں ہدایت کار عاصم رضا کسی اچھے کوریوگرافر کے ساتھ ساتھ فلم کے منجھے ہوئے اداکار کو بھی کاسٹ کریں گے تاکہ ٹی وی ٹی وی سی جو فیلنگ آرہی تھی، وہ نہ آئے۔
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial