یاسین عالم

!! ڈبسمیش

یاسین عالم |
دسمبر 24, 2015

پردہ ہے پردہایک چیز جس سے آپ موٹے نہیں ہوتے۔بس آپ کا ہاتھ ڈھائی کلو کا ہوجاتا ہے۔ ۔ جو پڑتا ہے تو آدمی اٹھتا نہیں اوووٹھ جاتا ہے۔ کوا ہنس کی چال چلے یا ہنس کوے کی آخر میں دونوں ہی گدھے معلوم ہوتے ہیں۔جی ہاں ! اب آگیا ہے دبسمیش ، جس میں بس آپ کو ہونٹ ہلانے ہیں اور آپکے من پسند کی آواز آپ کے گلے میں۔ بھلے آپ کی شکل اچھی ہو یا کوئی لنگور

ریحام خان

یاسین عالم |
دسمبر 19, 2015

کسی عورت کو طلاق ہوجائے تو عدت لازمی ہوتی ہے۔ مگر اب ھیلووین پر جاتے ہیں ۔جی ہاں!! قوم کی سابقہ بھابھی ریحام خان کی بات کر رہا ہوں ۔عمران خان سے شادی تو اسلیے کی تاکہ سیاست میں آسکیں۔ مگر افسوس دل کے ارماں آنسوئوں میں بہہ گئے ۔اپنے آپ کو صحافیہ منوانے والی سابقہ بھابھی جی کی تو ڈگری بھی جالی نکلی تھی۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے کہ جہاں کالج سے ذلیل کرکے نکالے ہوئے کو صدر ، چار آدمیوں کے برابر کھانا ٹھونسنے اور اسپیشل کرسی پر بیٹھنے والے کو وزیراعظم اور بی بی سی پر چھوٹے کپڑے پہننے والی ویدر گرل کو جرنلسٹ یاصحافی بنا دیتے ہیں۔ ایسی پوسٹ کی عورت جس کو کوئی سنتا نہیں ،صرف دیکھتے ہیں۔ ایک بات تو سمجھ نہیں آتی کہ آخر بھابھی جی کرنا کیا چاہتی تھیں۔ آپ کی خواہش سیاست میں آنے کی تو پوری ہوئی نہیں تو پروڈکشن کے کام میں لگ گئی۔ نئی آنے والی فلم “جاناں” سے آپ نے اپنے فلمی کیریئر کا بھی آغاز کردیا۔ کسی نے کیا خوب بات کہی ہے کہ جسے کچھ نہیں آتا ہے وہ ہر کام میں کود پڑتا ہے۔ کبھی کبھی تو ریحام پر افسوس آتا ہے ۔ ان سے اچھا تو وہ گدھا ہے جو کچھ کرے نہ کرے، سامان تو لاد لیتا ہے۔ ایک دفعہ تو انٹرویو لینے کی ٹھان لی ۔نجی چینل پر بھابھی جی نے انٹرویو لینا شروع کیے اور پہلا انٹرویو ہی اپنےدوسرے سابقہ میاں عمران خان کا لے ڈالا۔ شادی کے بعد توانھوں نے گیٹ اپ بھی ایسا کرلیا ہے کہ دیکھتے ہی نقل کی بو آتی ہے۔ خیر عمران خان کی گھریلو زندگی ہی پوچھنے بیٹھ گئی۔ خان صاحب نے آن کیمرہ تو عجیب سا منہ بنا کر جواب دے دیا ۔مگر آف کیمرہ نہ جانے کیا کہا ہو۔سیاست ملی نہیں ، چینل پر چل نہ سکیں اور بس کتوں کو پالنا پڑا۔ہائے یہ مجبوری ، طلاق ضروری ہوگئی ۔ بیچاری رضیہ خواہ مخواہ غنڈوں میں پھنس گئی تھی ۔ اب ریحام دوبارہ نجی چینل “نیو” کا حصہ بن گئی ہیں۔ ویسے شکر منائیں خان صاحب کہ آپ اب بھی بنی گالامیں رہ سکتے ہیں۔ ورنہ ان کے پہلے سابقہ شوہر اعجاز رحمن کہتے ہیں کہ انھیں اپنے ہی گھر سے سوٹ کیس کے ساتھ باہر نکال دیا گیا!!!

سیلفیاں رے سیلفیاں!!!

یاسین عالم |
دسمبر 19, 2015

یہ سیلفی سیلفی کیا ہے۔ یہ تو عجب بلا ہے ۔نئے دور کی نئی بیماری۔ کبھی لوگ دل کے دورے سے مرتےتھے۔ اب زیادہ سیلفی لینے سےفوت ہوا کریں گے۔ سیلفی ، بہت سیلفشنس لگتی ہے ۔ جسے یوں ڈیفائن کرسکتے ہیں کہ وہ تصویریں یا فوٹوز جس میں انسان صرف اپنے آپ کو تاڑتا ہے۔اک دور تھا کے آئینے میں اپنے آپ کو دیکھ لینا کافی تھا۔ تصویروں میں تو دوسروں کو دیکھیں گے۔ اپنی کبھی کوئی تصویر آگئی تو آگئی۔۔ نہیں تو مرےنہیں جارہے ہیں۔ اب تو لوگ تیار ہی سیلفیز کے لیے ہوتے ہیں ۔ کبھی آئینہ دیکھتے ہوئے سیلفی تو کبھی جھاڑو لگاتے ہوئے ۔۔۔ ویسے جھاڑو لگانی تو نہیں ہوتی مگر سیلفی کے لیے پکڑنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ لڑکوں کا اپنا طریقہ ہے ۔ گاڑی کے ساتھ تو کبھی قربانی کے جانور کے ساتھ ۔ ہاں سیلفی لیتے ہوئے چونچ بنانا، مطلب پاوٹ کرنا نہیں بھولیں۔ شاپنگ مالز اور ریسٹورنٹز کے باتھ روم ضرورت پوری کرنے کے ساتھ ساتھ سیلفی بوتھ کا کام بھی انجام دے رہے ہیں۔کچھ دنوں میں لوگ تو میت کےساتھ بھی سیلفی لینے کی روایت قائم کریں گے۔ آخری یادگار سیلفی۔ ۔۔ اور ایسی یادگار فیس بک کا حصہ نہ بنے ،کیسے ممکن ہے۔ اگر ہمیں مرنے کا وقت پتا لگ جائے تو ایک سیلفی لازمی ہے۔۔۔ ہیش ٹیگ# گوئنگ ٹو ڈائے(سیڈ فیس)۔۔عوام کے ساتھ ساتھ اس کا خمار سپراسٹارز پر بھی مو جود ہے ۔ فوٹوگرافی سے دل نہیں بھرتا تو سیلفیز لینا شروع کر دیتے ہیں ۔ جتنا دل لگا کر یہ کام کرتے ہیں اگر اداکاری بھی کریں تو کیا ہی بات ہو۔ ہمارے سیلیبریٹی ،سپر اسٹارز کرکٹرز کو دیکھیں ،ان کے تو بس دو ہی کام ہیں۔ ایک اشتہاروں میں آنا۔۔ اور دوسرا۔۔ ہم جیتیں یا ہاریں ۔۔۔ سیلفی تو ہم لیں گے۔۔امریکن ریسرچ کے مطابق ڈاکٹرز اسے دماغی بیماری کہتے ہیں ۔ ہماری تو پوری قوم بیمار ہے۔۔درد ہودل میں تو دوا کیجیئے ۔۔ مگر جب پوری عوام میں ہو تو۔۔۔۔

!!! آئیں خبریں سنیں

یاسین عالم |
دسمبر 18, 2015

خبریں عوام تک اس لیے پہنچائی جاتی تھیں تا کہ وہ حالات کے بارے میں جان سکیں لیکن اب تو خبریں بھی انٹرٹینمنٹ ہی لگتی ہیں ۔ نیوز چینلز اس بات پر توجہ دیتے ہیں کہ کیسے اسے چٹ پٹابنا کر پیش کریں۔ ارے بھئی خبر ہے ،کوئی چھولے چاٹ نہیں کہ جتنا مصالحہ ڈالوگے اتنی چٹ پٹی ہوتی جائے گی۔ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ ہر خبر میں ہر چینل سب سے آگے کیسے ہوتا ہے ،اور یہ سب سے آگے ہونے کا مطلب اور مقصد کیا ہے؟ کوئی دوڑ لگی ہے کیا؟ سب کو خرگوش بننے کا بھوت سوار ہے۔ ادھر تو پھر بھی کچھوا پیچھے تھا۔بھائی جب سب ہی آگے ہیں تو پیچھے کون ہے؟ پہلے دیکھیں تو بیچارہ ایک ہی چینل ہوتا تھا۔ جس کا کام بس وہ ہی حکومت کے گن گانا اور فصلوں کو سنڈیوں سے بچانے کے طریقے بتانا تھا۔ اب تو دکھ کی خبر بھی ایسے ماحول بنا کر دیتے ہیں کہ سمجھ نہیں آتا کہ افسوس کریں یا مزے سے سنیں۔کسی کے انتقال کی خبر ہی سن لیجیئے ۔ گانے کے بغیر تو ادھوری ہے۔ انتقال بھلے مہدی حسن کا ہو یا ڈاکٹر اسرار احمد کا ، گانا لازمی ہے ۔ اور کسی کے اسپتال جانے کی خبر دینی ہو تو اس کے لیے “جانے نہیں دینگے تمہیں “کا ٹریک تیار کرلیا جاتا ہوگا۔ پھر جب واقعہ ایک، جگہ ایک ، فوٹوایک تو پھر “نیوز ایکسکلوسیو “کیسے ہو جاتی ہے؟ ہر چینل ایک ہی تصویر دکھارہا ہوتا ہے اور کہتا ہے “فلاں نیوز ایکسکلوسیو”۔ الیکشن ہو یا سیلکشن ، کامیابی ہو یا ناکامی، ہر معاملے میں کامیابی بس چینلز کی ہوتی ہے ،آخر کماتے جو ہیں۔ کبھی تو اتنے مصروف ہوجاتے ہیں کہ بلٹ ان ہی دکھانا بھول جاتے ہیں ۔ اگر ہیڈلائن آتی بھی تو بس یہی ہوتی کہ سج گیا میدان۔۔ بارش کا امکان، کھانا کھانا ہے یاڈاکٹر کے پاس جانا ہے۔اگر میری مانیں تو ٹی وی پر خبریں دیکھنا چھوڑ دیں، بہت افاقہ ہوگا ۔۔۔ پکا!

!!! ٹوسو میں ٹھونسو

یاسین عالم |
دسمبر 17, 2015

اس وقت ایک کہاوت ہی بس یاد آئی کہ کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے۔لیکن ٹوسو میں گلاس بھی نہیں ملے جو توڑتے۔

کھانا پکائیں۔۔

یاسین عالم |
دسمبر 17, 2015

کھانا پکانا سیکھنا ہے تو اب گھر سے کیوں سیکھیں۔ چینلز جو ہیں۔ جن کا کام ہی بس کھانا بگاڑنا۔۔ مطلب سکھانا ہے۔پہلے رشتے آتے تووالدین کہتے تھے کہ ہم نے اپنی بیٹی کو اچھی تعلیم کے ساتھ کھانا پکانا بھی سکھایا ہے۔ مگر اب کہیں گے کہ ہم نے اپنی بیٹی کو ذوق ، مصالحہ ، ذائقہ اور سارے کھانا برباد کرنے والے چینلز دکھائےہیں ۔ جنھوں نےکھانوں کی روایت کوخراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ان کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ کھانے کے ساتھ ساتھ آپ کو عجیب طرح سے اترانا بھی سکھاتے ہیں ۔ مشہور سپر اسٹار کک گلزاز کا ڈانس تو ہر دل کی جان ہے۔ جب وہ اپنے جسم کا خیال اور سیٹ کی پرواہ کیے بغیر ڈانس کرتےہیں تو ریٹنگ کا پتا نہیں ،مگر ہنسی اچھی آجاتی ہے۔ اس طرح کے چینلز کی بات کی جائے اور زبیدہ آپا کا نام ذہن میں نہ آئے ایسا ممکن نہیں۔ آپا کے ٹوٹکے توبس کیا بتائیں، زہریلاکھانا بھی کھانے لائق بنا دیتے ہیں۔بٹن کے دھاگے مضبوط کرنے ، موزے کی بدبو دور کرنے ، کالے کو گورا کرنے اور گورے کو کالا کرنے کے بہترین ٹوٹکے موجود ہیں۔ اتنے ٹوٹکے تو پہلے بھی استعمال نہیں ہوتے ہونگے جتنے انھیں آتے ہیں ۔ جادو کرنےوالے اب احتجاج کریں گے کیونکہ آپا لائی جادو توڑ ٹوٹکے۔ان کے علاوہ بھی کافی پاکستانی سپر اسٹار شیف موجود ہیں ۔ جیسے طاھر چوہدری جو اب جلد ہی بریانی میں بھی وائن ڈالنے کا طریقہ سیکھائیں گے۔ شیف شائے جو بالکل بھی شائے نہیں۔ کوکب خواجہ تو آپا کے ٹوٹکے سے” جوانی کبھی نہیں جانی” کوسچ دکھانا چاہتی ہیں۔ سپر اسٹار شیف راحت کی بات ہو تو ڈنڈناڈن ہو جاتا ہے۔ ان کو کھانے بنانے کے علاوہ ہر کام آتا ہے۔ جس میں برا منہ ،بڑا سر اور بڑی باتیں شامل ہیں۔ بھئی کیا بات ہے ان سپر اسٹارز شیف کی جنھوں نےکھانا جیب پر ایسا بھاری کیاکہ گھر کی دال ،مرغی برابر ہو گئی۔پہلے کھانے کے لیے کماتے تھے اب کھانا سجانا بھی تو ہے۔تو بھئی اب ایسے بھی نہیں سکھائیں کے کھانا کھاناہی مشکل ہوجائے۔

1 49 50 51 52
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial