کوئی موازنہ ہی نہیں

|
فروری 22, 2017


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
انسان کو یونہی ہمیشہ سچ بولنا چاہیئے جیسے عمر اکمل نے کہا کہ ان کا موازنہ ویراٹ کوہلی سے نہیں کیا جائے۔ اس بات پر تنقید کرنے والوں کو سوچنا چاہیئے کہ اس میں کچھ جھوٹ نہیں ہے کیونکہ جس طرح آسمان اور زمین، اندھیرا اور اجالا، سفید اور کالا ، انسان اور حیوان کا کوئی موازنہ نہیں بالکل اسی طرح ویراٹ کوہلی اور عمر اکمل کا بھی موازنہ نہیں ہو سکتا۔ ویراٹ کوہلی بھلے بھارتی ہے مگر انہیں بلے باز کہتے ہوئے کسی کو بے عزت ہونے کا خوف محسوس نہیں ہوتا ۔ اس کے برعکس عمر اکمل کو ایک بلے باز کہتے یا محض تصور کرتے ہوئے بھی ایک با عزت انسان کو شرم محسوس ہوتی ہے، روح کانپ جاتی ہے اور جھوٹ بولنے کی سزا یاد آجاتی ہے۔ عمر اکمل نے پاکستانی ٹیم میں اگست 2009 سے اپنے ون ڈے کیرئیر کا آغاز کیا اور اب تک کل 116 میچز کھیل چکے ہیں جس میں 3044 رنز بنانے کی زحمت کی۔ اس لحاظ سے ان کا اوسط سکور 35.82 رنز ہیں ۔ نئے کھلاڑی گرم خون، اور جوش کا سمندر ہیں ، ایسے کھلاڑیوں کے لیے ہی ٹی 20 کا آغاز کیا گیا تھا اور عمر اکمل جیسے قابل بلے باز نے 82 ٹی ٹوئنٹی میچز میں 26.82 رنز کے شاہکار اوسط کے ساتھ 1690 رنز بنائے۔ باقی ٹیسٹ کرکٹ میں انہیں صرف 16 میچ کھیلنے کا موقع ملا ورنہ وہاں بھی یہ اپنی کامیابی کا جھنڈا گاڑتے۔ دوسری طرف ویراٹ کوہلی ہیں جو بس 48 ٹی ٹوئنٹی میچز میں 1709 رنز بنا کر 53.40رنز کی اوسط کے ساتھ نمبر ون کھلاڑی بنے بیٹھے ہیں ۔ ویراٹ کوہلی کا کوئی حق نہیں تھا کہ انھیں نمبر ون کھلاڑی بنایا جاتا۔ ہمارے عمر اکمل کو اگر اوپر کھلایا جاتا تو وہ نمبر ون سے بھی اوپر والے نمبر پر ہوتے۔ ون ڈے میں ویراٹ کوہلی نے کونسا تیر چلایا ہے،179 میچز میں 53.11 رنز کی اوسط ہی تو ہے۔ ویراٹ تو ہے بھی بس اوسط درجے کا کھلاڑی ۔ عمر اکمل جیسا کھلاڑی صدیوں میں کہیں جا کر پیدا ہوتا ہے جو کہ صرف اخبار کی شہہ سرخیوں اور اشتہارات میں نظر آنے کی مہارت رکھتا ہو۔ عمر اکمل کو کئی ہنر آتے ہیں جیسے وقت پر آؤٹ ہوجانا، دانت باہر نکال کر عجیب سے منہ بنانا اور سب سے اہم ٹیم کی سلیکشن کا وقت قریب آتے ہی ایک پرفارمینس اچھی دے دینا۔ باقی پورا پاکستان جانتا ہے عمر جیسا اکمل کھلاڑی کوئی نہیں۔
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial