میانداد کا مشورہ

|
مارچ 18, 2017


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
چور چوری کرے تو اسکے ہاتھ کاٹ دو، تاکہ وہ دوسروں کے لیے نشانِ عبرت بن جائے۔ جاوید میانداد نے پی سی بی کو بھی ایسا ہی مشورہ دیا ہے کہ میچ فکسنگ یا اسپاٹ فکسنگ کرنے والے کو سزائے موت دے دیں تاکہ ایک کھلاڑی کو سزائے موت ہوتو آگے سبھی محتاط ہوجائیں۔ جبکہ دوسری طرف شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ کچھ سال کی پابندی سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، جو فکسنگ میں ملوث ہو اس پر تاحیات پابندی ہونی چاہیئے۔
پاکستانی کرکٹ کے فخر، جاوید میانداد کا مشورہ موجودہ حالات کے لحاظ سے بہت اچھا ہے۔ اس سے پاکستانی کرکٹ میں بہت بہتری لائی جاسکتی ہے۔ اگر کسی کو سٹے بازی کی سزا، سزائے موت نہ بھی دی جائے اور صرف اس قانون کا اعلان کردیا جائے کہ میچ فکسنگ اور اسپاٹ فکسنگ کی سزا ،سزائے موت ہوگی تو بھی کرکٹ سے بد عنوانی کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
لیکن ایسے قوانین بنانے کے لیے پی سی بی کو خود ہرطرح کی بدعنوانی سے پاک ہونا پڑے گا۔ ورنہ قانون بنانے والا خود ہی کرپٹ ہو تو وہ واپنے ساتھی کرپٹ بھائیوں کو کیسے کوئی سزا دے سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جاوید میانداد سزائے موت کا مشورہ دے سکتے ہیں کیونکہ ان کی پوری کرکٹ کی زندگی میں ایک بھی فکسنگ یا کسی بھی طرح کی کوئی بھی کرپشن کا الزام نہیں لگا۔
سزا ئیں اسی لیئے بنائی جاتی ہیں تاکہ سزا یافتہ شخص سب کے لیے نشانِ عبرت بن جائے۔ کسی ایک بھی فکسنگ میں ملوث کھلاڑی کو سخت سے سخت سزا یا سزائے موت ہوتی ہے تو ہی پاکستانی کرکٹ سے بدعنوانی کو ختم کیا جاسکے گا۔ جب پتا ہو کہ سزا آسان ہے تو کون گناہ کرتے ڈرے گا؟
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial