اَن فٹ اکمل کا کمال

|
مئی 24, 2017


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
کچھ لوگوں کا کام "کچھ نہ" کرنا ہوتا ہے۔ اسی کام کا وہ معاوضہ لیتے ہیں اور دوسروں پر بوجھ بنتے ہیں ۔ اس کی زبردست مثال ہمارے پاس عمر اکمل کے صورت میں موجود ہے۔ ویسے تو پاکستان اپنی حکومت سے لیکر عوام تک ان مثالوں سے بھرا ہوا ہے مگر عمر اکمل اور انکے چاہنے والوں اور انھیں نوازنے والوں نے ہر حد کو پار کیا ہوا ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے عمر اکمل کو چیمپئنز ٹرافی کے لیے "فٹ" قراردے کر ٹیم کا حصہ بنایا اور انگلینڈ روانہ کردیا ۔ مگر وہ یہ بھول گئے فٹنس کوئی کاغذی کرپشن تو ہے نہیں کہ چھپانا آسان ہو۔ عمر اکمل کو انگلستان میں متفقہ طور پر "اَن فٹ" قرار دیا گیا۔ جس کے بعد پی سی بی کے چیئر مین شہریارخان نے انکی وطن واپسی کا حکم دے دیا ہے۔
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ پاکستان ٹیم کے مایہ ناز ناکارہ کھلاڑی جو بیٹنگ میں پر آئیں تو دانت دکھاکر واپس جاتے ہیں اور وکٹ کیپنگ کریں تو گیند کو اپنے ہاتھ کی قید سے آزاد رکھتے ہیں، ان کو آج بھی نوازنے والے سلیکٹر موجود ہیں جو ٹیم کا بیڑا غرق کرنے کے لیے عمر اکمل جیسے کھلاڑی کو ٹیم کا حصہ بناتے ہیں۔
چیمپئنز ٹرافی جیسے میگا ایونٹ پر کھلاڑی کی فٹنس کو نظرانداز کر کے انگلینڈ روانہ کرنا بہت سے سوالوں کو پیدا کردیتا ہے۔ کیا واقعی پی سی بی میں بیٹھے سلیکٹر اور اعلیٰ عہدیدار پاکستان ٹیم کو جیتنے کے لیے تیار کررہے ہیں؟ پاکستان میں اتنا ٹیلنٹ ہونے کے باوجود چند ہی لوگوں کو سیلکٹ کرنا انھیں نوازنے کے مترادف ہے۔ جو کھلاڑی کچھ نہیں کرتے انھیں کرکٹ سے دور رکھنا چاہیئے۔ ٹیم میں نئے ٹیلنٹ کو جگہ دینی چاہیئے اور انھیں آزمانا چاہیئے۔
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial