جیت یا ہار… امکان کس کا؟

|
مئی 30, 2017


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
پاکستان نے اس بار چیمپئنز ٹرافی کا آغاز عمر اکمل کی غلط سلیکشن سے کیا، جس سے چیمپئنز ٹرافی کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کی سنجیدگی کا واضح ثبوت ملتا ہے۔ پاکستان نے اپنا پہلا وارم اپ میچ بنگلہ دیش کے ساتھ کھیلا جو کہ دو وکٹوں سے جیت کر پورے پاکستانی میڈیا کو خوشی منانے کا موقع دیا ۔ آسٹریلیا کے خلاف دوسرا وارم اپ میچ بارش کی نذر ہوا اور بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگیا۔
پاکستان اپنا پہلا چیمپئنز ٹرافی میچ بھارت کے خلاف 4 جون کو کھیلے گا۔ پاکستان اور بھارت کے علاوہ گروپ بی میں جنوبی افریقہ اور سری لنکا بھی موجود ہیں۔ پاکستان اور بھارت نے کل127 میچز ایک دوسرے کے خلاف کھیلے ہیں جس میں پاکستان نے 72 اور بھارت نے 51 میچز جیتے ہیں۔ مگر ،" دل کہ خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے"۔
جیسا کہ ٹیم میں پہلے ہی عمر اکمل کی نا اہلی کے باوجود سیلیکشن سامنے آچکی ہے اسکے علاوہ پاکستانی ٹیم میں ابھی بھی سیلفی بوائے احمد شہزاد موجود ہیں ۔ محمد حفیظ کے بغیر شاید پاکستانی ٹیم کا چلنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے، اس لیئے ناقص کارکردگی کے باوجود انھیں لازمی ٹیم میں لیا جاتا ہے۔
گیند بازی میں پاکستان کے پاس ابھی وہاب ریاض جیسے شاندار بالر ٹیم میں موجود ہیں جو اگر کھلاڑی ہونے کے علاوہ کچھ اور ہوتے تو یہ انکا کرکٹ پر احسان ہوتا ۔ محمد عامر ، وہاب ریاض اور جنید خان تین فاسٹ بالر ٹیم کا حصہ ہیں اور تینوں ہی الٹے ہاتھ سے گیند بازی کرتے ہیں۔ سیدھے ہاتھ کے فاسٹ بالر وقار یونس اور شعیب اختر کے بعد سے پاکستان نے پیدا کرنے چھوڑ دیئے ہیں۔ ایک وقت تھا جب وسیم اکرم اور وقار یونس کی جوڑی بلے باز کو گیند بازی سمجھنے میں دشواری پیدا کرتی تھی۔
دوسری طرف بھارتی ٹیم مضبوط بلے بازوں کے ساتھ موجود ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ بھارتی ٹیم اکثر صرف گھر کے شیر ہوتے ہیں۔ مگر اس وقت پاکستانی ٹیم میں بہت سی خامیاں موجود ہیں جنھیں دور کرنا نہایت ضروری ہے۔ جس ملک کے گلی گلی میں کرکٹ ہوتا ہو وہاں ٹیلنٹ کی کمی کیسے ہوسکتی ہے۔ مگر سیدھے ہاتھ کے بالرکا نہ ہونا ،ٹیم میں ابھی تک محمد حفیظ اور احمد شہزاد کا ہونا اور عمر اکمل کا سلیکٹ کیے جانا ، ایسالگتا ہے پاکستان کرکٹ میں یتیم ہوگیا ہے۔
  1. آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی میں عمر اکمل کو پاکستان کرکٹ ٹیم کا باقائدہ حصہ نہیں ہے لیکن انکو ٹیم میں 16 نمبر کے کھلاڑی کی ٖضرورت ۔پرنے پر انگلینڈ بلایا جاسکتا
    پے ۔آپ یقین جانے کے پاکستان کرکت بورڈ کی سیلیکشن کمیٹی کی نااہلی انتہا کو پہنچ گئے ہے کیونکہ پاکستان کرکٹ ٹیم میں ایک ایسا منفر کھلاڑی بھی موجودہے جس نے ابھی تک ایک بھی ون ڈے انڑنیشنل میچ اور ڈمیسٹک میچ نہیں کھلا پھر بھی وہ ٹیم کا حصہ ہے ایسے کھلاڑیوں کو پرچی کا نام سے پکارنا غلط نہیں ہوگا۔جبکہ دوسری طرف اگر پاک اور بھارت کی میچ کی بات کی جائے تو بھارت کا پلا بھاری کیونکہ انکے پاس پرورفیشنل تیم کا حصہ جو کسی بھی وقت میج کی بازی پلٹنے کی صلاٖحیت رکھتے ہے لیکن اسکے برعکس پاکستان ٹیم وہ واحد ٹیم ہے جو کسی بھی ٹیم کو ہرانے کی صلاحیت رکھتی ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial