مجھے آپ سے ایسی ہی گھٹیا پرفارمنس کی توقع تھی

|
جنوری 22, 2016


Facebooktwittergoogle_pluslinkedin
نام شاہد آفریدی، کام فضول کے پنگے لینا، جی ہاں پاکستان کرکٹ ٹیم کے بہت جلد سابق کپتان بننے والے شاہد آفریدی کو اوپر سے آنے کا شوق ہے۔ کبھی بالر کے آگے اوپر سے آکر چوکے چھکے مارتے ہیں تو کبھی بالر بن کر وکٹیں اڑاتے ہیں۔
اور جب کوئی نہ ملے تو جو بھی ملے اس سے بھڑ جاتے ہیں، چاہے وہ تماشائیوں میں ہوں، ائیرپورٹ پر ہوں یا پھر کوئی صحافی۔ صحافی لاکھ بکاؤ ہو، اسے آپ سے لاکھ نفرت ہو لیکن سوال پوچھنا اس کا بنیادی حق ہے۔
آپ کوئی محلے کی کرکٹ ٹیم نہیں چلارہے جو من مانی کرتے رہیں۔ اپنی مرضی کے اوپنر کو بار بار کھلا کر قوم کی دل آزاری کررہے ہیں۔ شکست کے بعد شکست سے شائقین کرکٹ کو دکھ ہوتا ہے مگر آپ کو نہیں۔
اور تو اور محمد عامر کی بالنگ پر کیچ گرانا تو کوئی آپ سے سیکھے، جو شخص میچ فکسنگ میں ملوث کرکٹر کی بالنگ پر کیچ گرادے اور اپنے پٹھان بھائی کی بالنگ پر مشکل کیچ تھام لے۔ اسے قومی کرکٹ ٹیم میں نہیں، علاقہ غیر کی کرکٹ ٹیم میں ہونا چاہئے۔ اور ہاں، بال بھی تو چبائی تھی نہ آپ نے، پچ بھی تو خراب کی تھی ۔۔۔ اتنے مہان کرکٹر ہیں تو یہ بچوں والی حرکت کی ہی کیوں تھی، کبھی سوچا بھی ہے کہ آپ دنیا کی کسی اور ٹیم میں ہوتے ،تو شاید اب نہ ہوتے۔
پاکستان وہ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں آپ جیسے کرکٹر کی پذیرائی ہوتی ہے ورنہ ایک دو خراب کارکردگی کے بعد کسی اور ملک کی ٹیم میں آپ کی جگہ ہی نہ بنتی۔نیوزی لینڈ میں بھی قومی ٹیم کی خراب پرفامنس آپ ہی کی مرہون منت ہے۔ نہ جانے آپ جان کب چھوڑیں گے۔
آپ کا پہلا میچ دیکھنے والوں کے بچے اب کرکٹ کھیلنے کی عمر کو پہنچ چکے ہی لیکن آپ آج بھی اینگری ینگ مین بنے ہوئے ہیں۔ مصباح الحق سے ہی کچھ سیکھ لیں کہ کرکٹ کھیلتے اور کھلاتے کیسے ہیں۔
اپنی رائے کا اظہار کریں

. .

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial