شرم تم کو مگر نہیں آئی

|
مارچ 7, 2016


Facebooktwittergoogle_pluslinkedinپاکستان کرکٹ ٹیم کی خراب کارکردگی پر لکھتے ہوئے لکھنے والوں کو شرم آنے لگی ہے لیکن ناقص ٹیم کے فضول دو میچ جیتے لیکن جو دو ہارے، بہت برے ہارے۔ کپتان شاہد آفریدی ان شکستوں کے بعد بھی مطمئن نظر آئے، شاید اس وجہ سے کہ انہیں معلوم تھا کہ جب گدھوں کو منتخب کریں گے تو گھوڑے جیسی کارکردگی نہیں دکھائیں گےکپتان شاہد آفریدی کو شرم ہے کہ چھو کر نہیں گزرتی۔ایشیا کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے چار میچ کھیلے۔
۔سب سے پہلے بات ٹاپ آرڈرکی، محمد حفیظ، شرجیل خان اور خرم منظور تینوں نے ہی بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
235349
خرم منظور ٹیم کے لئے نہیں، ٹیم میں جگہ کیلئے کھیلے۔شرجیل خان کے بھرم ہی کم نہیں ہوئے جبکہ محمد حفیظ کو اب بھی یقین ہے کہ وہ تھڑدکلاس نہیں، ورلڈ کلاس ہیں۔سرفراز احمد کے ہوتے ہوئے کسی اور کو آزمانے کی ضرورت ہی نہیں۔عمر اکمل کو اگر کھلانا ہے تو اوپر کھلائیں ورنہ نچلے نمبر پر عمر اکمل کی بیٹنگ سے سب واقف ہیں۔شعیب ملک کی ٹیم میں جگہ ہی نہیں بنتی لیکن شاہد آفریدی کو نہ جانے ان سے کیا محبت ہے،
کھلاتے بھی ہیں اور پھر غصہ بھی نہیں کرتے۔ کچھ بات ہوجائے بالرز کی تو ماسوائے محمد عامر کے سب کو مرمت کی ضرورت ہے، وہاب ریاض تو ایسے دریا دلی سے رنز دیتے ہیں جیسے ان کے والد کا پرانا لین دین کا کاروبار ہو ۔محمد عرفان ایک وکٹ لیتے ہیں
اور دو ہاتھوں میں آتے کیچز گرا کر دوسروں کو دکھ دیتے ہیں۔ محمد سمیع جان مارنے کی وجہ سے نو بال کرگئے جبکہ انور علی نے سب کو بتادیا کہ اگر دوسری طرف بیٹسمین نہ ہو تو گیند سیدھی وکٹ پر جاکر لگے گی۔
کھلاتے بھی ہیں اور پھر غصہ بھی نہیں کرتے۔
کچھ بات ہوجائے بالرز کی تو ماسوائے محمد عامر کے سب کو مرمت کی ضرورت ہے، وہاب ریاض تو ایسے دریا دلی سے رنز دیتے ہیں جیسے ان کے والد کا پرانا لین دین کا کاروبار ہو ۔محمد عرفان ایک وکٹ لیتے ہیں اور دو ہاتھوں میں آتے کیچز گرا کر دوسروں کو دکھ دیتے ہیں۔ محمد سمیع جان مارنے کی وجہ سے نو بال کرگئے جبکہ انور علی نے سب کو بتادیا کہ اگر دوسری طرف بیٹسمین نہ ہو تو گیند سیدھی وکٹ پر جاکر لگے گی۔
ایشیا کپ میں پاکستان کا سفر ختم ہوگیا لیکن شاہد آفریدی کے بیانات سے ایسا نہیں لگتا کہ انکا کیرئیر اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ کبھی کرکٹ جاری رکھنے کی خواہش کرتے ہیں تو کبھی ٹیم کو غیر اہم میچ میں کامیابی پر ورلڈ کلاس قرار دیتے ہیں۔ صاحبزادہ شاہد خان آفریدی ۔۔۔ یہ کرکٹ کا کھیل ہے، آپکی جاگیر نہیں کہ جو آپ کا دل چاہے آپ کریں۔ ملک کے لئے کھیلنا سیکھیں، ملک سے کھیلنا نہیں۔
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial